خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 493
493 خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم مزید اس کی طرف توجہ کریں اور اس دریا میں سے موتی تلاش کر کے لائیں) اور وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔لیکن اس لئے نہیں کہ جلائے جائیں بلکہ اس لئے کہ تا خدا تعالیٰ کی قدرتیں ظاہر ہوں اور ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور لعنت کی جاتی ہے اور وہ ہر طرح سے ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے اور طرح طرح کی بولیاں ان کی نسبت بولی جاتی ہیں۔اور بدخلنیاں بڑھ جاتی ہیں یہاں تک کہ بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ بچے ہیں“۔(آج) کل یہی الزام لگایا جا تا ہے نا کہ اگر آپ بچے ہوتے تو اس طرح تکلیفیں نہ اٹھارہے ہوتے اور سارے مسلمانوں نے ایک طرف آپ کے خلاف محاذ نہ کھڑا کیا ہوتا۔فرماتے ہیں کہ ”بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ بچے ہیں بلکہ جو شخص ان کو دکھ دیتا اور لعنتیں بھیجتا ہے وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ بہت ہی ثواب کا کام کر رہا ہے۔پس ایک مدت تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور اگر اس برگزیدہ پر بشریت کے تقاضا سے کچھ قبض طاری ہو تو خدا تعالیٰ اس کو ان الفاظ سے تسلی دیتا ہے۔( ان کو فکر پیدا ہوتی بھی ہے تو تسلی دیتا ہے) کہ صبر کر جیسا کہ پہلوں نے صبر کیا اور فرماتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔پس وہ صبر کرتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ امر مقدر اپنے مدت مقررہ تک پہنچ جاتا ہے۔تب غیرت الہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجلی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے“۔( ایک ہی تجلی میں دشمنوں کو پاش پاش کر دیتی ہے ) ”سواؤل نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور اخیر میں اس کی نوبت آتی ہے۔(پہلے دشمن خوش ہوتے ہیں کہ ان کو وہ تکلیفیں دے رہے ہیں۔پھر آخر جو انجام ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کا ہوتا ہے )۔اسی طرح خداوند کریم نے بارہا مجھے سمجھایا کہ بنی ہو گی اور ٹھٹھا ہوگا اور لعنتیں کریں گے اور بہت ستائیں گے۔لیکن آخر نصرت الہی تیرے شامل ہو گی اور خدا دشمنوں کو مغلوب اور شرمندہ کرے گا“۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 52 تا 54) پھر اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور وہ کہتا ہے کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں۔( یعنی لوگ پیچھے ہٹتے جارہے ہیں ) تب میں نے اس کو کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو تو اس نے عربی زبان میں جواب دیا اور کہا کہ جِئْتُ مِنْ حَضْرَةِ الْوِتْرِ یعنی میں اس کی طرف سے آیا ہوں جوا کیلا ہے۔تب میں اس کو ایک طرف خلوت میں لے گیا۔اور میں نے کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں مگر کیا تم بھی پھر گئے تو اس نے کہا کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔تب میں اس حالت سے منتقل ہو گیا۔( یعنی پھر واپس اسی حالت میں آ گیا۔فرمایا کہ یہ سب امور درمیانی ہیں۔( بیچ کے معاملات ہیں جو ہونے ہیں۔یہ انجام نہیں ہیں بلکہ یہ جو معاملات ہورہے ہیں، واقعات چل رہے ہیں ان کا ایک حصہ ہے)۔فرمایا ” جو خا تمہ امر پر منعقد ہو چکا ہے وہ یہی ہے کہ بار بار کے الہامات اور مکاشفات سے جو