خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 492
492 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہونے کا اظہار نہیں؟ یقینا ہے اور اس پر احمد یوں کو غور بھی کرنا چاہئے اور سوچنا بھی چاہئے اور ان وعدوں کے اپنی زندگیوں میں پورا ہوتے دیکھنے کے لئے دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بجز خدا کے انجام کون بتلا سکتا ہے اور بجز اس غیب دان کے آخری دنوں کی کس کو خبر ہے۔دشمن کہتا ہے کہ بہتر ہو کہ یہ شخص ذلت کے ساتھ ہلاک ہو جائے اور حاسد کی تمنا ہے کہ اس پر کوئی ایسا عذاب پڑے کہ اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔لیکن یہ سب لوگ اندھے ہیں اور عنقریب ہے کہ ان کے بد خیالات اور بدار ادے انہی پر پڑیں۔اس میں شک نہیں کہ مفتری بہت جلد تباہ ہو جاتا ہے اور جو شخص کہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ نہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے وہ بہت بُری موت سے مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔لیکن جو صادق اور اس کی طرف سے ہیں وہ مر کر بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا ہاتھ ان پر ہوتا ہے اور سچائی کی روح ان کے اندر ہوتی ہے۔اگر وہ آزمائشوں سے کچلے جائیں اور پیسے جائیں اور خاک کے ساتھ ملائے جائیں اور چاروں طرف سے ان پر لعن طعن کی بارشیں ہوں اور ان کے تباہ کرنے کے لئے سارا زمانہ منصوبے کرے تب بھی وہ ہلاک نہیں ہوتے۔کیوں نہیں ہوتے؟ اس بچے پیوند کی برکت سے جو ان کو محبوب حقیقی کے ساتھ ہوتا ہے۔خدا ان پر سب سے زیادہ مصیبتیں نازل کرتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ تباہ ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ تا زیادہ سے زیادہ پھل اور پھول میں ترقی کریں۔ہر یک جو ہر قابل کے لئے یہی قانون قدرت ہے کہ اول صدمات کا تختہ مشق ہوتا ہے“۔(اس کو بہت ساری تکلیفیں پہنچتی ہیں مثلاً اس زمین کو دیکھو جب کسان کئی مہینے تک اپنی قلبہ رانی کا تختہ مشق رکھتا ہے اور ہل چلانے سے اس کا جگر پھاڑ تا رہتا ہے۔اسی طرح وہ حقیقی کسان کبھی اپنے خاص بندوں کو مٹی میں پھینک دیتا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو یہاں کسان سے تشبیہ دی ہے کہ وہ حقیقی کسان اپنے خاص بندوں کو مٹی میں پھینک دیتا ہے ) اور لوگ ان کے اوپر چلتے ہیں اور پیروں کے نیچے کچلتے ہیں اور ہر یک طرح سے ان کی ذلت ظاہر ہوتی ہے۔تب تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانے سبزہ کی شکل پر ظاہر ہو کر نکلتے ہیں اور ایک عجیب رنگ اور آب کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جو ایک دیکھنے والا تعجب کرتا ہے۔یہی قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطۂ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں ( یعنی ایسے گرداب میں ، ایسی ہلاکت میں ڈالے جاتے ہیں جو بہت بڑی ہوتی ہے )۔لیکن غرق کرنے کے لئے نہیں۔بلکہ اس لئے کہ تا ان موتیوں کے وارث ہوں کہ جو دریائے وحدت کے نیچے ہیں۔( اللہ تعالیٰ ان کو اس لئے مشکلات میں نہیں ڈالتا کہ ان کو فنا کر دے یا غرق کر دے بلکہ نیک لوگوں کو ابتلاء اس لئے آتے ہیں تا کہ ان دریاؤں کے نیچے جا کر اللہ تعالیٰ کی وحدت کے دریا میں جو پھر رہے ہیں وہ