خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 369
369 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 انہیں عبادتوں سے روکا تھا۔ان کو کلمے سے روکا تھا۔وہ احمدیوں کے کلمے تو چھین نہیں سکے احمدیوں کو عبادتوں سے تو روک نہیں سکے۔لیکن اپنی ان کی یہ حالت ہے کہ آپس میں لڑائیاں فتنہ فساد، مسجد میں بند ہوئی ہیں اور ان کی حکومت کے ذریعہ سے ان کی مسجد میں گرائی جاتی ہیں۔وہاں سے اسلحہ نکل رہا ہوتا ہے۔یہ تو ایک عمومی حالت ہے۔لیکن اسلام کے نام پر اب وہاں ظلم کی انتہا اتنی بڑھ گئی ہے کہ پچھلے دنوں میں عیسائیوں پر جو غیر مسلم اقلیت ہے ، بربریت کا ایک انتہائی بھیا نک نمونہ دکھایا گیا ہے۔ملاں جس کو چاہے اسلام کے نام پر کسی بھی کام کو غیر اسلامی فعل قرار دے کر اس پر ظلم کروالیتا ہے۔عمومی حالت ملک میں لاقانونیت ہے۔لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔نعرہ تو یہ لگاتے ہیں کہ قانون کی بالا دستی ہے۔عدلیہ بحال ہوگئی فلاں یہ ہو گیا لیکن عملاً یہ بالا دستی صرف سیاسی مفادات کے لئے ہے اور جہاں کسی غریب شہری کے حقوق دلوانے کا سوال آتا ہے وہاں ان کے یہ سب قانون ختم ہو جاتے ہیں۔تو اس لحاظ سے بھی احمدیوں کا فرض بنتا ہے کہ دعا کریں اپنے ملک کے لئے جو پاکستان کے احمدی ہیں خاص طور پر۔پاکستان میں تو خاص طور پر جیسا کہ میں نے کہا احمدیوں پر ظلموں کی انتہا ہوتی رہتی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے۔جب سے انہوں نے یہ قانون پاس کیا 1974ء میں اور پھر 1984ء میں۔جو چاہے اپنے خود ساختہ اسلام کے نام پر جس کو مرضی ظلم کا نشانہ بنالے اور قانون جو ہے سیاستدان جو ہیں وہ اپنی مصلحتوں کے تحت اپنی سیاسی بقا کے لئے مولویوں کے ہاتھوں میں ہیں اور مولوی کے خوف سے کوئی بھی ایسا نہیں جو انصاف کے تقاضے پورے کر سکے۔پس احمدی ان دنوں میں خاص طور پر جبکہ پاکستان کی بہت زیادہ بھیانک صورتحال ہوتی چلی جا رہی ہے دعا کریں، خاص طور پر پاکستان کے احمدی اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں ، اس کی پناہ طلب کریں، اپنے اعمال کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کریں، صدقات پر زور دیں اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے ہیں۔جماعت احمدیہ نے ترقی کرنی ہے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر شر سے ہر احمدی کو محفوظ رکھے اور جماعت کو پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی اپنی خاص حفاظت میں رکھے۔UK کا جو جلسہ ہوا ہے۔اس جلسہ کے بعد سے بعض عرب ممالک میں بھی وہاں کی انتظامیہ نے احمدیوں کو تنگ کرنا شروع کیا ہے۔وہ حرکت میں آئی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل دے کہ وہ مخالفت کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کو مانیں اور آنحضرت ﷺ کے سلام کا پیغام سیح و مہدی تک پہنچائیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے ایمان میں مضبوطی پیدا کرے۔آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔ملتان میں ہمارے ایک نوجوان مکرم رانا عطاء الکریم نون صاحب تھے۔ان کو کل تین مسلح نو جوانوں نے گھر میں گھس کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی عمر 36 سال تھی۔موصی تھے اور جماعت سے بڑا اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔کچھ عرصہ سے ان کو شک تھا کیونکہ بعض مشکوک افراد ان کے گھر کے