خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 174
174 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی حالتوں کے بدلنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور زمانے کے بہاؤ میں بہنے والے نہ بنیں۔بلکہ ہر روز ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے اور ہمیشہ لباس تقوی کی حقیقت کو ہم سمجھنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ممکن ہے گزشتہ زندگی میں وہ کوئی صغائر یا کہا ئر رکھتا ہو۔( یعنی کوئی بھی انسان چھوٹے بڑے گناہ کرتا ہو ) لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اس کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ گل خطائیں بخش دیتا ہے اور پھر اس کو کبھی شرمندہ نہیں کرتا۔نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔یہ کس قدر احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ درگزر کرتا اور عفو فرماتا ہے پھر اس کا کبھی ذکر ہی نہیں کرتا۔اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔پھر باوجود ایسے احسانوں اور فضلوں کے بھی اگر وہ منافقانہ زندگی بسر کرے تو پھر سخت بد قسمتی اور شامت ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 596 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔اگر انسان برائیوں اور بدیوں پر دلیری اختیار نہ کرے اور اُن سے بچنے کی کوشش کرتا رہے اور لباس تقوی کی تلاش میں رہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ستاری کی چادر میں ایسا لپیٹتا ہے کہ گناہوں کی یادیں اور نام و نشان مٹ جاتے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس کو بھی شرمندہ نہیں کرتا نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں۔اور جب اللہ تعالیٰ کسی سے راضی ہوتا ہے تو شرمندہ ہونے کا سوال کیا ہے اپنے بے انتہا انعامات سے نوازتا ہے۔اس بارے میں خدا تعالیٰ سورۃ نساء میں فرماتا ہے کہ اِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَائِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلا كَرِيمًا (النساء: 32) اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تم سے تمہاری بدیاں دُور کر دیں گے اور تمہیں ایک بڑی عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔اب یہاں فرمایا کہ بڑے گناہوں سے بچتے رہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑے گناہوں کی تلاش کی جائے، یا یہ دیکھا جائے کہ کون کون سے بڑے گناہ ہیں جن سے بچنا ہے۔ایک حقیقی مومن وہ ہے جو ہر قسم کے گنا ہوں سے بچتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ستاری تو ہر قسم کے گناہوں کے لئے ہے۔اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بڑے گناہوں سے بچا جائے اور چھوٹے چھوٹے گناہ اگر کر بھی لئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ بڑے گنا ہوں سے بچو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے گناہوں سے بچو کیونکہ قرآن کریم میں بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں کی کوئی فہرست نہیں ہے، کوئی تخصیص نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ چیز جس کے نہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور سختی سے پابند کیا ہے کہ ایک مومن نہ کرے، اس کو کرنا گناہ ہے۔پس ہر وہ غلط کام جس کے