خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 175

175 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کو چھوڑنے میں اگر کسی کو کوئی دقت پیش آ رہی ہے چاہے وہ چھوٹی سی بات ہے یا بڑی بات ہے تو وہ اس شخص کے لئے بڑا گناہ ہے۔پس جب ایک مشکل چیز کو کر لو گے، اس پر قابو پا لو گے تو ایسی برائیاں جن کو چھوڑ نا نسبتاً آسان ہے وہ بھی خود بخود چھٹ جائیں گی۔بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی گناہ کی انتہا جو ہے وہ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔پس اگر اس انتہاء پر پہنچنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ نے جو اب تک پردہ پوشی فرمائی ہے وہ پردہ پوشی فرمائے گا۔اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے نیکیوں کی طرف توجہ کر لو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر ہے۔پھر وہ برائیاں ظاہر نہیں ہوں گی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے پھر جو صغائر یا کبائر ہیں ان کا ذکر بھی نہیں فرماتا۔ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کبائر کو بعض دوسرے گناہوں سے ملا کر یہ بھی کھول دیا کہ ہر گناہ جو ہے وہ کبیرہ بن سکتا ہے جیسا کہ سورۃ شوری میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: 38) اور جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو بخشش سے کام لیتے ہیں۔یعنی مومنوں کی یہ نشانی بتائی گئی ہے۔تو یہاں مومنوں کے ذکر میں فرمایا کہ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں، بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔اب یہاں دونوں چیزیں اکٹھی ہیں۔اور غصے سے بچتے ہیں، بلکہ تینوں چیزیں اکٹھی ہیں۔یہاں ایک بات غور کرنے والی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔حیا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ان لوگوں کے لئے بڑے غور اور فکر کا مقام ہے جو فیشن اور دنیاری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اپنے لباسوں کو اتنا بے حیا کرلیا ہے کہ تنگ نظر آتا ہے اور حیا کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ تو ستاری اور بخشش کرنا چاہتا ہے اور جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پڑھا ، وہ تو بندے کی طرف دوڑ کر آتا ہے اگر بندہ اس کی طرف جائے۔لیکن بندہ اس سے پھر بھی فائدہ نہ اٹھائے تو کتنی بد قسمتی ہے۔پھر اس آیت میں جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں ، غضبناک ہونے اور غصے اور طیش میں آنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے گنا ہوں اور بے حیائی کی باتوں کے ساتھ جوڑا ہے۔کیونکہ غضبناک ہونا بھی ایمان کو کمزور کرتا ہے اور بہت سے گناہ غصہ کی پیداوار ہیں۔معاشرے کا امن وسکون غصہ کی وجہ سے برباد ہوتا ہے۔انسان اگر سوچے کہ انسان کتنے گناہ اور زیادتیاں اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف عمل کر کے کر جاتا ہے اور ان کا خیال بھی نہیں آتا۔لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی انسان کی پردہ پوشی فرماتا رہتا ہے۔باوجود سزادینے کی طاقت کے ، ذُو انْتِقَام ہونے کے معاف کر دیتا ہے لیکن بندہ ذرا ذراسی بات پر غیظ و غضب سے بھر کر فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس حقیقی مومن بننے کے لئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اپنے غصہ کو بھی قابو میں رکھو کیونکہ اس سے پھر پردہ پوشی بھی ہوگی۔غصہ کی حالت میں بہت ساری ایسی باتیں نکلتی ہیں جو دوسرے کی پردہ دری کر رہی ہوتی ہیں۔