خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد ہفتم 50 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 معلوم ہوتا تھا۔اگر آنجناب در حقیقت خدا کے بچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ایک تو وہ موقع تھا جب کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔(2) دوسرا وہ موقع تھا کہ جب کا فرلوگ اس غار پر مع ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت علیے مع حضرت ابو بکر کے چھپے ہوئے تھے۔(3) تیسر اوہ نازک موقع تھا جبکہ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلوار میں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی۔یہ ایک معجزہ تھا۔(4) چوتھا وہ موقع تھا جبکہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا)۔(5) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقع تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت میلہ کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا۔“ چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 263-264 حاشیہ) اس کے آگے وضاحت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آپ سے بھی تائیدات کا سلوک فرماتا رہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’ یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی۔(1) اول وہ موقع جبکہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلاک نے خون کا مقدمہ کیا تھا۔(2) دوسرے وہ موقع جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا۔(3) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا۔(4) وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا۔(5) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی لی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں۔مگر وہ تمام مقدمات میں نا مرا در ہے۔“ چشمه معرفت - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 263 - حاشیه در حاشیہ) یہ دیکھیں کہ فرمایا کہ اپنے آقا و مطاع کی غلامی میں جو میرا مسیحیت ، نبوت اور مہدویت کا دعوئی ہے۔اس کی تائید اللہ تعالیٰ کئی لحاظ سے فرما رہا ہے اور یہ مشابہت کر کے بھی فرماتا ہے۔گو آقا کی شان بہت بلند ہے لیکن اس کی غلامی کے صدقے غلام صادق کے لئے ہے بھی اللہ تعالیٰ اپنے کافی ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔