خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 51

51 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اس کے علاوہ بعض اور واقعات بھی ہیں۔پچھلی دفعہ میں نے کہا تھا وقت نہیں ہے۔اس لئے پیش نہیں کئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے آپ کے سامنے خلاصہ رکھتا ہوں۔یہی جو ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ کا ذکر ہوا ہے۔یہ جماعت کی تاریخ میں بڑا مشہور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ مقدمہ کیا گیا تھا۔جس میں ہندو، عیسائی مسلمان سب آپ کے خلاف ایک ہو گئے تھے۔اس کی ایک لمبی تفصیل ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی بریت فرمائی۔لیکن اللہ تعالیٰ استہزاء کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے یا جو آپ کے استہزاء کی خواہش رکھتے ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اس مقدمے میں اس کی ایک مثال میں پیش کرتا ہوں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس معاند کے ساتھ کیا سلوک فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ در حقیقت وہ خدا بڑا زبر دست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔دشمن کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے ان کو ہلاک کر دوں اور بداندیش ارادہ کرتا ہے کہ میں ان کو کچل ڈالوں مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان! کیا تو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ در حقیقت زمین پر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔(کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 19) اسی مقدمہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخالف کی استہزاء اور سبکی کا سامان کیا جو آپ کی استہزاء چاہتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ ”جب میں صاحب ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں گیا۔(اس مقدمے میں ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش ہوا) تو پہلے سے میرے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔جب میں حاضر ہوا تو صاحب ضلع نے بڑے لطف اور مہربانی سے اشارہ کیا کہ تا میں کرسی پر بیٹھ جاؤں۔تب محمد حسین بٹالوی اور کئی سو آدمی جو میری گرفتاری اور ذلت کے دیکھنے کے لئے آئے تھے ایک حیرت کی حالت میں رہ گئے کہ یہ دن تو اس شخص کی ذلت اور بے عزتی کا سمجھا گیا تھا مگر یہ تو بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔فرماتے ہیں کہ ) میں اس وقت خیال کرتا تھا کہ میرے مخالفوں کو یہ عذاب کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ اپنی امیدوں کے مخالف عدالت میں میری عزت دیکھ رہے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ اس سے بھی زیادہ ان کو رسوا کرے۔سوالیسا اتفاق ہوا کہ سر گر وہ مخالفوں کا محمد حسین بٹالوی جس نے آج تک میری جان اور آبرو پر حملے کئے ہیں، ڈاکٹر کلارک کی گواہی کے لئے آیا تا عدالت کو یقین دلائے کہ یہ شخص ضرور ایسا ہی ہے جس سے امید ہوسکتی ہے کہ کلارک کے قتل کے لئے عبدالحمید کو بھیجا ہو۔اور قبل اس کے کہ وہ شہادت دینے کے لئے عدالت کے سامنے آوے ڈاکٹر کلارک نے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر اس کے لئے بہت