خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 49

49 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اس کی باریکیوں کو سمجھنے کا دعوی کر کے پھر اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ خود سمجھنا چاہتے ہیں نہ ہی عوام الناس کو سمجھنے دینا چاہتے ہیں ، اس موقع پر بائبل کے حوالے سے بھی یہ ثابت کرتے ہوئے کہ جھوٹا نبی مارا جاتا ہے، یہ بائبل میں بھی ہے، فرماتے ہیں کہ: اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعوی کیا یا کسی اور شخص نے دعوی کیا اور وہ ہلاک نہ ہوئے یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے اور تیس (23) برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعوی ثابت کرنا چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا ہے“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "غرض پہلے تو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ کون سا کلام الہی اس شخص نے پیش کیا ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔پھر بعد اس کے یہ ثبوت دینا چاہئے کہ جو 23 برس تک کلام الہی اس پر نازل ہوتا رہاوہ کیا ہے۔یعنی کل وہ کلام جو کلام الہی کے دعوے پر لوگوں کو سنایا گیا ہے پیش کرنا چاہئے جس سے پتہ لگ سکے کہ تئیس (23) برس تک متفرق وقتوں میں وہ کلام اس غرض سے پیش کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا کلام ہے یا ایک مجموعی کتاب کے طور پر قرآن شریف کی طرح اس دعوی سے شائع کیا گیا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے۔جب تک ایسا ثبوت نہ ہوتب تک بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت لَوْ تَقَوَّل کو ہنسی ٹھیٹھے میں اڑانا ان شریر لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔اربعین نمبر 2 روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحه 477 پس مسلمانوں کو سوچنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ یہ معیار ہے۔یہ پر کچھ ہے جو ایک بچے اور جھوٹے کی ہے۔اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور دشمنوں کے حملوں کے مقابلے پر اللہ تعالیٰ کے آپ کے لئے کافی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بڑی شان سے ایک جگہ آپ نے پہلے آنحضرت ﷺ کا اور پھر اس کے بعد ساتھ ہی اپنا ذ کر کیا۔آپ فرماتے ہیں : یا در ہے پانچ موقعے آنحضرت میلے کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے