خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 559
559 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس پر ہو جس پر تو لعنت کرے۔یقینا تو ہی میرا دوست اور مددگار ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین سے ملا دے۔اے میرے اللہ ! میں تجھ سے راضی بالقضاء رہنے کی توفیق مانگتا ہوں اور مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک کا اور تیرے چہرہ کو دیکھ کے حاصل ہونے والی لذت کا طلبگار ہوں۔اور میں کسی نقصان پہنچانے والے کے نقصان اور گمراہ کر دینے والے فتنے کے بغیر تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں اے میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔یا میں زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے۔یا میں کوئی نیچے گرا دینے والی خطا کروں یا ایسا گناہ کروں جو بخشا نہ جائے۔اے آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والے، اے غیب اور حاضر کا علم رکھنے والے، اے عزت و جلال والے میں دنیا میں بھی اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں اور تجھے گواہ ٹھہراتا ہوں اور تو گواہ ہونے کے لحاظ سے کافی ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔بادشاہت اور ہر قسم کی ستائش تیرے لئے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد یہ تیرے بندے اور رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچا ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت حق ہے اور وہ گھڑی آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔اور جو قبروں میں ہیں تو انہیں کھڑا کرے گا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اپنے نفس کے سپرد کر دیا تو تو نے مجھے گھاٹے اور تنگ اور گناہ اور خطا کے سپر د کر دیا۔میں یقینا تیری رحمت پہ بھروسہ کرتا ہوں۔پس تو مجھے میرے تمام گناہ بخش دے۔یقیناً تیرے سوا کوئی گنا ہوں کو نہیں بخشا اور میری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو یقینا تو ہی بہت زیادہ رحمت کے ساتھ توجہ کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔( مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 255 مسند زید بن ثابت حدیث 22006 عالم الكتب بيروت 1998ء) یہ ایک لمبی دعا ہے جو آنحضرت ﷺ نے سکھائی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق دے کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہر وقت قائم رہے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہم ہوں اور اس کے انعامات سے ہر آن فیضیاب ہوتے رہیں۔آج ایک افسوسناک خبر ہے۔ہمارے ایک احمدی دوست مکرم را نا سلیم احمد صاحب نائب امیر ضلع ناظم انصار اللہ ضلع اور علاقہ سانگھڑ کو 26 نومبر کو کل نماز مغرب کے بعد احمدیہ مسجد سانگھڑ سے باہر نکل کر موٹر سائیکل کھڑی کر کے نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلے، گیٹ بند کر رہے تھے کہ کسی بد بخت نے آپ کی ناک پر پستول رکھ کر فائر کیا اور گولی سر کے پیچھے سے نکل گئی۔فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن بہر حال وہاں جانبر نہ ہو سکے اور ان کی وفات ہو گئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون آپ پڑھے لکھے آدمی تھے ایم اے بی ایڈ کیا ہوا تھا۔شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے اور سانگھڑ میں ایک سکول چلا رہا