خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 560

560 خطبہ جمعہ فرموده 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تھے نیولائیٹ اکیڈمی کے نام سے اور بڑا اچھا مشہور سکول ہے یہ سانگھڑ کا۔اس وقت بھی آپ کے سکول میں تقریباً ایک ہزار طالب علم تھے۔اللہ کے فضل سے موصی تھے اور جماعتی خدمات میں پیش پیش تھے۔اور مختلف پوزیشنوں میں جماعت کی رہے ہیں، حیدر آباد، سانگھڑ میں، سیکرٹری دعوت الی اللہ بھی رہے۔اصلاح و ارشاد کے عہدہ پر بھی فائز تھے، 2004ء میں آپ کو نائب امیر ضلع سانگھڑ بنایا گیا تھا۔والدین تو ان کے وفات پاچکے ہیں ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور شہید کے درجات کو بلند فرمائے اور اپنی رضا کی جنتوں میں ان کو جگہ دے۔دوسرا ایک اور جنازہ ہے وفات کا اعلان جو گیانی عبداللطیف صاحب در ولیش ابن مکرم عبد الرحمن صاحب قادیان کا ہے جو 20-21 نومبر کی درمیانی رات کو 82 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی حضرت محمد حسین صاحب کپور تھلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے، آپ نے گورمکھی کا امتحان گیانی پاس کیا تھا اس لئے گیانی کے نام سے مشہور تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر فوج سے ریلیز ہو کر قادیان آئے اور 313 درویشوں میں شامل ہوئے۔کچھ عرصہ دیہاتی مبلغین میں شامل ہو کر فیلڈ میں خدمات بجالاتے رہے پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ری امپلائی ہو کر دفتر زائرین میں لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔قرآن کریم کے گورمکھی کے ترجمے کے نظر ثانی اور پروف ریڈنگ بھی بڑی محنت سے آپ نے کی۔کچھ عرصہ مینیجر بدر بھی رہے۔اس طرح بہشتی مقبرہ کا ایک قطعہ بھی اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔مسلسل وقار عمل کرتے رہتے تھے اس کو ٹھیک رکھنے کے لئے۔خوش طبع اور زندہ دل انسان تھے مطالعہ کا شوق تھا۔معاشی تنگی کے باوجود ہمیشہ خوش باش نظر آتے تھے۔اور کہتے ہیں کہ ایک افسردہ شخص بھی ان سے بات کرتا تو خوش ہوئے بغیر نہ رہتا۔ان کے پسماندگان بھی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔عبدالہادی صاحب نور ہسپتال کی لیب میں کام کر رہے ہیں اور ایک ان کی بیٹی شمیم اختر سکول میں ٹیچر ہیں اور قادیان کی صدر لجنہ بھی ہیں۔ان کے ایک داما دصباح الدین صاحب نائب ناظر بیت المال ہیں۔بچے مختلف حیثیتوں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی اپنے والد کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ان دونوں مرحومین کے شہید کے بھی اور ان کے بھی۔نماز جنازہ غائب ابھی میں جمعہ اور عصر کی نماز کے بعد ادا کروں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 51 مورخہ 18 دسمبر تا 24 دسمبر 2009 ، صفحہ 5 تا صفحہ 8)