خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 553
553 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کے لئے کہوں گا۔چنانچہ جب آپ واپس جانے لگے تو سٹیشن پر پہنچ کر میں نے سارا واقعہ بیان کیا اور دعا کے لئے عرض کیا، آپ نے وہیں ہاتھ اٹھا کر دعا کی، آپ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ قریباً ایک سال کے اندر ہی خدا تعالیٰ نے اس کو لڑکا عطا فر مایا۔سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحہ 241-240) پھر مولوی غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فیضان ایزدی نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت راشدہ کے طفیل اور تبلیغ احمدیت کی برکت سے میرے اندر ایک ایسی روحانی کیفیت پیدا کر دی تھی کہ بعض اوقات جو کلمہ بھی منہ سے نکالتا تھا اور مریضوں اور حاجتمندوں کے لئے دعا کرتا تھا مولا کریم اسی وقت میرے لئے معروضات کو شرف قبولیت بخش کرلوگوں کی مشکل کشائی فرما دیتا تھا۔چنانچہ ایک موقع پر جب موضع سعد اللہ پور گیا تو میں نے چوہدری اللہ داد صاحب کو جو چوہدری عبداللہ خان نمبر دار کے بھائی تھے اور ابھی احمدیت سے مشرف نہ ہوئے تھے مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے دیکھا ، بھائی کے بیٹے تھے کہ وہ بے طرح دمہ کے شدید دورہ میں مبتلا تھے اور سخت تکلیف کی وجہ سے نڈھال ہو رہے تھے۔میں نے وجہ دریافت کی انہوں نے کہا کہ 25 سال سے پرانا دمہ ہے مجھے اور اس کی وجہ سے میری زندگی دوبھر ہو گئی ہے۔میں نے علاج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا سارے ہندوستان کے جتنے قابل ڈاکٹر ہیں ، طبیب ہیں ان سے علاج کروا چکا ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ایسی بیماری کو موروثی اور مزمن کہتے ہیں اور ڈاکٹروں نے اسے لا علاج قرار دے دیا ہے۔تو مایوس ہو چکا ہوں اب علاج سے اور اب تو میں زندگی سے تنگ آچکا ہوں۔تو میں نے انہیں کہا کہ آنحضرت ﷺ نے تو کسی بیماری کو لِكُلِّ دَاءِ دَوَاء کے فرمان سے لاعلاج قرار نہیں دیا۔آپ اسے لا علاج سمجھ کر مایوس کیوں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا مایوسی کے سوا چارہ کوئی نہیں۔میں نے کہا کہ ہمارا خدا تو فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ (هود: 108) ہے۔اس نے فرمایا کہ اِنَّهُ لَا يَايُنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (یوسف: 88) یعنی پاس اور کفر تو ا کٹھے ہو سکتے ہیں لیکن ایمان اور پاس اکٹھے نہیں ہو سکتے۔نا امیدی اکٹھی نہیں ہو سکتی ایمان کے ساتھ۔اس لئے آپ نا امید نہ ہوں اور پیالے میں تھوڑ اسا پانی منگوائیں۔میں آپ کو دم کر کے دیتا ہوں چنانچہ انہوں نے پانی منگوایا اور کہتے ہیں کہ میں نے خدا تعالیٰ کی صفت شافی سے استفادہ کرتے ہوئے اتنی توجہ سے پانی پر دم کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی صفت کے فیوض کرنوں کی طرح اس پانی میں برستے ہوئے نظر آئے۔اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ یہ پانی اللہ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے مجسم شفا بن چکا ہے۔چنانچہ جب میں نے یہ پانی حضرت چوہدری اللہ داد کو پلایا تو تھوڑی دیر میں ان کا دمہ رک گیا اور پھر اس کے بعد بھی ان کو دمہ کی تکلیف نہیں ہوئی۔اس کے بعد 15-16 سال وہ