خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد ہفتم 554 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 زندہ رہے۔اور اس قسم کے نشانات سے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب موصوف کو احمدیت نصیب فرمائی اور وہ نہ صرف احمدی ہوئے بلکہ مخلص احمدی مبلغ بن گئے۔(ماخوذ از حیات قدی حصہ اول صفحہ 45-44 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکئی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ موضع جا موڈ ولا جو ہمارے گاؤں سے شمال کی طرف 2 میل کے فاصلے پر ہے وہاں کے اکثر زمیندار ہمارے بزرگوں کے ارادتمند تھے جب انہوں نے جیون خان ساکن دھد رہا کی معجزانہ بیماری اور معجزانہ صحت یابی کا حال سنا تو ان میں سے خان محمد زمیندار میرے والد صاحب ، یہ بھی ایک واقعہ ہے جو میں بیان نہیں کر رہا جو کافی لمبا ہے، جیون خان بھی ایک شخص تھا جو مولوی صاحب کے ساتھ مل کے گاؤں کے خوب مخالفت کیا کرتا تھا اور ان کا وہاں آنا بند کر دیا تھا۔لیکن پھر اس کو کچھ ایسی تکلیف ہوئی پیٹ کی کہ آخر مجبوراً انہوں نے کہا کہ اب یہ اس کی اگر صحتیابی ہو سکتی ہے تو مولوی صاحب کی دعا سے ہو سکتی ہے۔ان کو بلا کے لاؤ۔چنانچہ مولوی صاحب گئے ، دعا کی تھوڑی دیر کے لئے شفا ہوئی واپس گئے تو پھر تکلیف شروع ہو گئی۔پھر انہوں نے خاص طور پر دعا کی اس کے لئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دی۔پھر مولوی صاحب نے اس واقعہ میں لکھا ہے کہ مولویوں نے اس وقت کہا تھا کہ ساری دنیا کے علاج ہو چکے ہیں اس کے اس کو شفا نہیں ہوئی یہ کونسا اللہ تعالیٰ کا خاص بندہ آ گیا ہے جو کہتا ہے کہ میں کروں گا، مرزا صاحب کا مرید تو دیکھ لینا یہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اس بات پہ پھر مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر یہ واسطہ دے کے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو شفادی۔تو بہر حال جیون خان کے اس واقعہ کے معجزانہ شفاء کی وجہ سے جو زمیندار تھے ، خان محمد زمیندار کہتے ہیں وہ میرے والد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا چھوٹا بھائی جان محمد عرصہ سے ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہے اس لئے مہربانی کر کے میاں غلام رسول را جیکی کو میرے ساتھ بھیجیں تا کہ وہ کچھ دن ہمارے گھر ٹھہریں اور جان محمد کے لئے دعا کرے۔( یہ خلاصہ میں بیان کر رہا ہوں)۔چنانچہ ان کی درخواست پر مولوی صاحب کہتے ہیں والد صاحب نے مجھے کہا میں چلا گیا اور وہاں جاتے ہی وضو کر کے نماز میں اس کے بھائی کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔سلام پھیرتے ہی میں نے ان سے دریافت کیا کہ اب جان محمد کی حالت کیسی ہے گھر والوں نے دیکھا تو جواب دیا کہ بخار تو بالکل اتر گیا ہے۔کچھ بھوک بھی محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد چند دنوں کے اندر ہی اس کے کمزور جسم میں جان پڑ گئی اور اس میں اتنی طاقت آ گئی کہ وہ چلنے پھرنے لگ گیا۔اس نشان کو دیکھ کر اگر چہ ان لوگوں کے اندر احمدیت سے متعلق کچھ حسن ظن تو پیدا ہو مگر حضرت مسیح موعود کے حلقہ بیعت میں کوئی شخص نہ آیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ( لکھتے ہیں مولوی صاحب ) کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ اس مریض کو جو صحت دی گئی ہے وہ ان لوگوں پر اتمام حجت کی غرض سے ہے اگر انہوں نے احمدیت قبول نہ کی تو یہ مریض اسی شعبان کے مہینے کی 28 ویں تاریخ کی درمیانی