خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 552

552 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے مجھے روحانی قوت کا احساس اور قوت مؤثرہ کی کیفیت کا جذبہ محسوس ہوا ( یعنی ایسی طاقت جس سے اثر ہو سکتا ہے دعا میں ) تو میں نے حسب وعدہ چوہدری اللہ داد کو ایک دعا لکھ کر دی۔جس کے الفاظ غالبا اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاَغْنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ تھے اور تلقین کی کہ وہ اس دعا کو ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ انہوں نے اسی وقت اس دعا کو اپنی پگڑی کے ایک گوشہ میں باندھ کر محفوظ کر لیا۔خدا کی حکمت ہے کہ میرے مولیٰ کریم نے سیدنا حضرت مسیح موعود کے طفیل اس وقت اس ناچیز کی دعا کو ایسا قبول فرمایا کہ ایک سال تک چوہدری اللہ داد غیبی امداد اور مالی فتوحات کے کرشمے اور عجائبات اور ملاحظہ کرتے رہے۔اس کے بعد اتفاق سے، بدقسمتی سے یہ دعا چوہدری اللہ داد صاحب سے ضائع ہو گئی اور وہ دست غیب کا سلسلہ ختم ہو گیا۔جب تک وہ کاغذر ہا چلتا رہا اس کے گنے کے بعد ختم ہو گیا۔(ماخوذ از حیات قدسی حصہ اول صفحہ 46-45 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر حکیم محمد اسماعیل صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے بچے محمد یعقوب کی پیدائش پر جب اس کا ختنہ کیا گیا تو حجام کی غلطی سے اس کی رگیں تک کٹ گئیں۔خون کسی صورت میں بند نہ ہوتا تھا۔خون کے مسلسل خارج ہونے سے بچے کی حالت غیر ہوگئی۔دودھ پینا تو ایک طرف رہا اس میں اتنی سکت بھی نہیں رہی کہ حرکت کر سکے ، آنکھیں پتھرا گئیں اور بظاہر ایک بے جان لاشے کی طرح نظر آنے لگا۔اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں میں اپنے مطلب سے ، حکمت کرتے تھے، دواخانہ سے دوائی لینے کے لئے گیا تو اس وقت اتفاقاً حضرت مولوی شیر علی صاحب میرے مطب کے سامنے سے گزر رہے تھے۔میں نے السلام علیکم کہا اور تمام حالات بیان کر کے دعا کی درخواست کی۔حضرت مولوی صاحب نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی شروع کر دی اور کافی دیر تک نہایت سوز و گداز اور انہماک سے دعا میں مشغول رہے۔دعا سے فراغت کے بعد جب میں گھر پہنچا اور بیوی سے کہا بچے کو ذرا دودھ تو پلاؤ۔جب اس کو ماں نے اشارہ کیا تو نہایت اشتیاق سے تندرست بچے کی طرح دودھ پینے لگا۔جیسے اس کو کبھی کوئی تکلیف ہی نہیں تھی۔کہتے ہیں میں حضرت مولوی صاحب کے اس دعا کے اعجاز کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے گہرے تعلق کا یہ کرشمہ میرے لئے بہت ایمان افروز ثابت ہوا۔سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحہ 228 227 ) پھر حضرت محمد حسین جہلمی ٹیلر ماسٹر کہتے ہیں یہ بھی حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ہی قصہ ہے کہ ایک دفعہ موضع پھلر وال ضلع جہلم تشریف لائے ایک غیر احمدی عورت کی شادی ہوئے چھ سات برس کا طویل عرصہ گزرچکا تھا۔لیکن وہ اولاد سے محروم تھی۔عورت کو جب آپ ایسی بزرگ ہستی کی آمد کا علم ہوا تو کہنے لگی سنا ہے مولوی صاحب بڑے بزرگ آدمی ہیں ان سے مجھے اولاد کا کوئی تعویذ ہی لے دیں۔میں نے کہا مولوی صاحب تعویذ تو نہیں دیتے البتہ دعا