خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 550
550 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 بہت بڑا سائیلہ سا نظر آیا ، ہم نے دیکھا تو وہ ایک مچھلی تھی۔حضرت ابوعبیدہ نے کہا یہ مردار ہے اسے نہیں کھانا چاہئے لیکن تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے ہیں اور مجبوری بھی ہے اور اس لئے تم کھا سکتے ہو۔کہتے ہیں ہم نے اس مچھلی پر جو اتنی بڑی تھی کہ ہم نے اس مچھلی پر ایک مہینہ گزارا کیا۔300 آدمی تھے اور اس کو کھا کر سب خوب موٹے ہو گئے اور بہت بڑی مچھلی تھی اس میں سے تیل مشکیں بھر بھر کے نکالتے رہے۔اس کی آنکھ اتنی بڑی تھی کہ 13 آدمی اس میں آرام سے بیٹھ سکتے تھے۔اس کی پسلی کی ہڈی اتنی اونچی تھی کہ اونٹ پر بیٹھ کر اس میں سے گزر سکتے تھے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ ان کے لئے انتظام کیا ، اس میں سے کچھ بچا کے وہ لے بھی آئے اور آنحضرت تم کو بتایا تو فرمایا کہ بالکل ٹھیک کیا تم نے، یہ تمہارے لئے جائز تھی بلکہ اگر کوئی ٹکڑا ہے تو مجھے بھی دو میں بھی کھاؤں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ رزق مہیا کیا تھا۔(مسلم کتاب الصيد والذبائح باب اباحة ميتة الحديث 4891) تو یہ ہیں خدا تعالیٰ کی مدد کے طریق کہ جو اس کی راہ میں نکلتے ہیں ان کی خوراک کے بھی سامان فرما دیتا ہے۔کہاں ایک کھجور کھا کر پانی پی کر اور پتوں پر گزارا کر رہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ گوشت بھی مہیا ہو گیا اور تیل بھی مہیا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کامل ایمان لانے والوں اور تقویٰ پر چلنے والوں کو، تو کل کرنے والوں کو فرماتا ہے وَيَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق:4) کہ اور ان کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتے۔پس جب دنیا میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا ہوتے ہم دیکھتے ہیں تو اس بات پر یقین اور بڑھتا ہے کہ جو اس دنیا میں ولی ہونے کا ثبوت دیتا ہے، اپنے بندوں کے انتظامات کرتا ہے اس نے جو آخرت کے متعلق وعدے کئے ہوئے ہیں ان کو بھی یقیناً پورا فرمائے گا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : 4) کے وعدہ کو پورا فرماتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کے ماننے والوں کو بھی ان صفات سے متصف کیا جو آقا نے انقلاب لا کر اپنے ساتھیوں میں پیدا کی تھی، تقویٰ پر چلنے والوں میں پیدا کی تھی۔اللہ تعالیٰ کے اس خاص سلوک کے واقعات جو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے روار کھے اور ہر تقویٰ پر چلنے والے اور اللہ تعالیٰ کا ولی بننے کی کوشش کرنے والے کے ساتھ آج بھی روا رکھ رہا ہے ان میں سے چند بیان کروں گا۔پہلے تو آنحضرت ﷺ کے چند صحابہ کے بیان کئے تھے۔یہ واقعات بیان کرنے سے پہلے ایک عجیب روایت ہے ڈاکٹر عطر دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک گواہی