خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 549 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 549

549 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پھر ایک اور عجیب روایت ہے ، ایک واقعہ ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ایک صحابی کی خواہش کے مطابق اس کی شہادت کے بعد بھی اسے کافروں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا۔یہ واقعہ الرجیع کے شہید کی بابت ہے جو سیرت ابن ہشام میں درج ہے، رجیع وہ جگہ تھی جہاں دھوکے سے 10 صحابہ کو دینی تربیت کے لئے بلا کر لے گئے تھے ، ایک قبیلہ والے اور وہاں جا کے ان کو شہید بھی کیا ان میں سے سات کو پہلے۔ایک دو جو بچے تھے ان کو بھی بعد میں قید کر کے شہید کر دیا۔تو بہر حال ان میں عاصم بن ثابت بھی شامل تھے انہوں نے دشمنوں سے مقابلہ جاری رکھا اور لڑتے لڑتے وہ شہید ہو گئے۔جب حضرت عاصم بن ثابت کی شہادت ہو گئی تو اہل هُدَیل نے کوشش کی کہ ان کا سر حاصل کرلیں تا کہ وہ ان کو سلافة بنت سعد بن شہید کے ہاتھ بیچ سکیں۔اس عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کو عاصم بن ثابت کی کھوپڑی مل گئی تو وہ اس میں شراب پئے گی کیونکہ حضرت عاصم نے جنگ اُحد کے دن اس کے دو بیٹوں کا کام تمام کیا تھا۔لیکن اہل حُصیل کو اس کی توفیق نہ ملی کیونکہ عاصم کی لاش اور ان کے درمیان شہد کی مکھیاں حائل ہوگئی تھیں۔جب شہید ہو کے گرے تو تھوڑی دیر بعد ہی مکھیوں اور بھڑوں نے قبضہ کر لیا۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کو رات کو پھر آ کر لے جائیں گے۔رات تک پڑا رہنے دیتے ہیں۔لیکن اس کا موقع بھی ان کو نہیں ملا۔پھر بارش ہوئی بڑی شدید اور خدا تعالیٰ نے ایسا سیلاب بھیجا کہ عاصم کے جسم کو اٹھایا اور وہ سیلاب اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔یہ وہی عاصم تھے جنہوں نے قبول اسلام کے بعد خدا سے عہد کیا تھا کہ کوئی مشرک ان کو نہ چھوئے گا اور نہ ہی وہ کسی مشرک کو چھوئیں گے۔کیونکہ کہیں وہ اس سے ناپاک نہ ہو جائیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ان کو جب یہ پتہ چلا کہ مکھیوں نے عاصم کی لاش کی حفاظت کی تھی تو فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی حفاظت فرمایا کرتا ہے۔عاصم نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ ساری زندگی ہرگز کسی مشرک کو نہ چھوئیں گے اور نہ کبھی کوئی مشرک ان کو چھوٹے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو عاصم کی وفات کے بعد بھی اس سے باز رکھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی میں مصروف رکھا تھا۔(ماخوذ از السيرة النبوية لابن ہشام صفحہ 592 ذکر یوم الرجيع في سنة الثلاث - دار الكتب العلمیة بیروت 2001ء) پھر ایک واقعہ ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ مدد فرماتے ہوئے بھوک مٹانے کے انتظامات کرتا ہے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مہم کے لئے ہمیں بھیجا اور حضرت ابو عبیدہ کو ہمارا امیر مقرر کیا اور ہمارے ذمہ قریش کے ایک قافلے کو روکنے کا فرض تھا اور ایک تھیلا صرف ہمیں دیا سفر کے زادراہ کے لئے اور اس کے علاوہ اور کچھ کھانے کو نہیں تھا۔حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ ہم ایک کھجور روزانہ کھایا کرتے تھے اور پانی پی لیتے تھے اور جیسے بچہ چوستا رہتا ہے، سارا دن چوستے رہتے ہیں۔پھر بعض دفعہ یہ ہوتا تھا کہ پیٹ بھرنا ہو تو درختوں پر سوٹیاں مار کے ان کے پتے جھاڑتے تھے اور ان کو پھر پانی میں تر کر کے کھالیا کرتے تھے۔ایک دن ہم سمندر کے کنارے جارہے تھے تو ایک