خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 541
541 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 پیشگوئی کا رنگ بھی رکھتی ہے۔یہ واقعات جو بیان کئے گئے ہیں یہ پیشگوئی کا رنگ رکھنے والے واقعات ہیں کہ آئندہ بھی یہ حالت ہو سکتی ہے۔چاہے وہ مسلمانوں کی جماعت ہی ہو اور آج دنیا کی حالت بتا رہی ہے کہ یہ سو فیصد سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھول کر غیر مسلم تو علیحدہ رہے، مسلمانوں کا انحصار بھی اور توجہ بھی ، کوشش بھی اور لگن بھی ، دنیاوی چیزوں کے حصول میں بڑھتی چلی جارہی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اس مقصد کے لئے ہوئی کہ اس قرآنی تعلیم کو دنیا پر لاگو کریں جو آج سے تقریباً 15 سو سال پہلے آنحضرت یا اللہ کے ذریعہ قائم ہوئی تھی۔جس میں بندے اور خدا کا ایسا تعلق پیدا کیا گیا تھا کہ عبادات کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے معاشرتی حقوق بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ادا کئے جاتے تھے۔مومن ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کے لئے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کر سکے اپنے نصف وسائل دوسرے مسلمان کو دینے کے لئے تیار ہوتے تھے کہ اس کو ضرورت ہے۔اس لئے کہ اس وجہ سے میں خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ پھر مجھے ہر مشکل اور کڑے وقت میں بچانے والا ہوگا اور اس قربت کی وجہ سے وہ کیا حسین معاشرہ تھا جو آنحضرت ملے نے قائم فرمایا۔جو آپ کی قوت قدسی کی وجہ سے قائم تھا جس میں خالصتا اللہ تعالیٰ کو ہی ڈھال بنایا جاتا تھا۔صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ان کا مقصود ہوتا تھا۔جہاں ایک مومن صحابی اپنی چیز کی ایک قیمت مقرر کرتا ہے تو دوسرا مومن کہتا ہے کہ نہیں آپ نے اس کی یہ قیمت کم مقرر کی ہے۔شہر میں تو آجکل اس سے بہت زیادہ قیمت ہے۔بیچنے والا کہتا ہے کہ میں اسے کیونکہ گاؤں سے لایا ہوں وہاں یہی قیمت ہے میں تو اسے اسی قیمت پر بیچوں گا۔میں زائد قیمت لے کر اللہ تعالیٰ کے دروازوں کو اپنے پر بند نہیں کرنا چاہتا۔دوسرا کہتا ہے کہ میں تمہیں کم قیمت دے کر اپنے پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازوں کو بند نہیں کرنا چاہتا۔ان میں جو بات چل رہی ہے تکرار اور بحث کی شکل اختیار کر لیتی ہے، کوئی بھی ان میں ماننے کو تیار نہیں ہوتا ، نہ لینے والا نہ دینے والا کہ میں کیوں عارضی منافع کی خاطر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصار سے باہر نکلوں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے سے دور کروں۔پس یہ معاشرہ ہے جو قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے اور اب احمدیوں کو بھی یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ اس معاشرے کے قیام کے لئے کیا ہم کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کو ولی بنانے کی خواہش رکھتے ہیں یا دنیا کے مال و دولت کو یا تعلقات اور جاہ و حشمت کو اپنا ولی بنا رہے ہیں؟ جب تک ہمارا ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر نہ ہو اور غیر اللہ سے مکمل تعلق نہ ٹوٹے۔اس پر بھرو سے اور امیدیں نہ ختم ہوں ہم حقیقی مومن نہیں کہلا سکتے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو مکمل طور پر اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ہم ایسے گھر میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں جو عنکبوت کا گھر ہے۔بے شک ہم کہنے کو تو ایمان لانے والوں میں شامل ہیں لیکن ہمارا عمل خدا تعالیٰ کو ڈھال نہیں سمجھ رہا۔پس