خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 540
540 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایک مومن کے لئے روحانیت اور تقویٰ انتہائی اہم چیز ہے۔اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے گھر کی مثال دے کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ منہ سے مذہب کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہے۔مذہب کا لیبل لگا لیتا اور اس کا لبادہ اوڑھ لینا کافی نہیں ہے۔اس سے انسان اپنی نجات کے سامان نہیں کر لیتا۔بلکہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہے۔اس روح کو پیدا کرنے سے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مذہب بھیجا ہے۔اور مذہب کا بنیادی سبق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے اور جب یہی مقصد ہے تو ایک دیانتدار انسان کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کی تلاش کرے۔قرآن کریم میں تو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مومن کو حکم فرمایا ہے کہ میری طرف قدم بڑھاؤ۔ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرو جو خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے لازمی قرار دی ہیں۔اسی لئے انبیاء آتے ہیں اور یہی کام خدا تعالیٰ کے مقربین اور اولیاء، انبیاء کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے کرتے ہیں۔یہی مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا بھی تھا اور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اُس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد 15 صفحه 143 ) پھر آپ فرماتے ہیں : ” میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں۔کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔سوئمیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293-291 حاشیہ) پس با وجود اس کے کہ قرآن کریم کی تعلیم اپنی اصلی حالت میں آج تک قائم ہے اور موجود ہے لیکن دلوں سے اس کا اثر غائب ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ ایسے وقت میں جب دنیا خدا تعالیٰ کو بھول جاتی ہے۔خدا کو چھوڑ کر دنیا پر انحصار کرنا شروع کر دے۔اللہ تعالیٰ اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے تا کہ وہ دوبارہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دنیا میں قائم کریں۔جیسا کہ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ نے پرانی قوموں کے قصے اس لئے بیان فرمائے کہ ان کو دیکھ کر ہوشیار رہوا اور اپنے مقصد پیدائش کو نہ بھولو۔اور مقصد پیدائش صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور دوسرے یہ