خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 539

539 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 ہوتے ہوئے بھی خدا کا خوف رکھے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے۔ورنہ یہ سب منہ کی باتیں ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کا خوف ہے۔بعض لوگ جو خدا کا نام لے کر پھر مظالم کی انتہا کرتے ہیں انہیں تو خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر ایمان ہی نہیں ہوتا۔صرف رسماً معاشرے کے اثر کی وجہ سے خدا کا نام لیتے ہیں۔ایسے لوگ ان گھروں میں رہنے والے ہیں جو عنکبوت کا گھر ہے جو مکڑی کا جالا ہے، جس کو ہوا کا ایک جھونکا بھی اڑا کر لے جاتا ہے۔ان لوگوں کو اصل یقین اپنی دولت، اپنے تعلقات، اپنی طاقت ، اپنی پارٹی ، اپنے جتھے، بڑی حکومتوں سے اپنے تعلقات پر ہوتا ہے اور نہیں جانتے کہ بڑی طاقتیں بھی اپنے مفاد پورے ہونے پر طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور وفا کرنے والی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پس مسلمانوں کو خاص طور پر بار بار اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بناؤ۔ہمیشہ یادرکھو کہ قائم رہنے والی اور سب طاقتوں کی مالک صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس لئے اسے ہی اپنے بچاؤ کا ذریعہ مجھو۔اسباب سے کام لینا، تعلقات قائم کرنا، تعلقات سے فائدہ اٹھانا بے شک جائز بھی ہے ، ضروری بھی ہے۔اسباب بھی خدا تعالیٰ کے مہیا کردہ ہی ہیں اور آپس کے معاشرتی تعلقات قائم کرنا، نبھانا ، مدد لینا اور مدد دینا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگیاں گزارنے اور معاشرے کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔مگر یہ خیال ایک مومن کو کبھی نہیں آتا ، نہ آنا چاہئے کہ اسباب اور تعلقات ہی سب کچھ ہیں۔اصل سہارا تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ کا سہارا نہ ہو اس کی مدد نہ ہو تو ظاہری اسباب اور تعلقات رتی بھر فائدہ نہیں دے سکتے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی پہلی سورۃ میں ہی مومن کو اس کے مقام اور طریق کار کے حصول کے لئے ایک دعا سکھا دی فرمایا کہ یہ دعا کیا کروايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5 ) کہ ہم عبادت بھی خدا تعالیٰ کی کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں اور مددبھی اسی سے مانگتے ہیں کہ عبادت کی توفیق بھی وہی دے اور ہماری احتیا جیں بھی وہی پوری کرے۔اور اس دعا کی اتنی اہمیت ہے کہ پانچ نمازوں کے فرائض اور سنتوں میں اسے پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے بلکہ نوافل میں بھی اسے پڑھنالازمی قرار دیا گیا ہے تا کہ ہر وقت یہ خیال رہے کہ عبادت بھی سچے دل سے خدا تعالیٰ کی ہی کرنی ہے اور مدد بھی سچے دل سے خدا تعالیٰ سے ہی مانگتی ہے۔ہر ضرورت پر ، ہر خواہش پر ، ہر کوشش کی تکمیل کے لئے پہلی نظر خدا تعالیٰ پر پڑنی چاہئے اور پھر اسباب کے ساتھ ساتھ اس اصول کو بھی پکڑے رکھنا چاہئے کہ دینے والا تو خدا تعالیٰ ہے۔ان کوششوں میں، ان تعلقات میں برکت ڈالنی ہے تو خدا تعالیٰ نے ڈالنی ہے۔اگر کوئی اس اصول سے منہ پھیرتا ہے تو پھر وہ کامیابی کے اس دروازے کو اپنے اوپر بند کرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور اس طرح سوائے اپنی ہلاکت کے سامان کے اور کچھ نہیں کر رہا ہوتا۔آخر کار پھر مادی اور روحانی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔