خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 538

538 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم تک اس کے اثرات ظاہر ہوتے چلے جارہے ہیں۔کہنے کو تو کہا جا رہا ہے کہ معیشت میں استحکام پیدا ہونے کی طرف قدم اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔لیکن آج تک ملازمتوں میں کمی اور فراغتوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔روزانہ کوئی نہ کوئی کمپنی اپنے ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔سرمایہ کاری کرتے ہوئے ابھی تک خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔اسی طرح طاقت کا سہارا ہے۔سمجھتے ہیں کہ ہم فرعون کی طاقت کے زیر اثر ہیں۔اپنی پناہ گاہ تلاش کی ہوئی ہے اس سے بیچ سکتے ہیں۔صداقت کے حوالے سے قرآن کریم نے فرعون کی مثال دی ہے۔وہ تو خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔خدائی کی بڑ مارنے والا تھا لیکن جب اس کے بھی انجام کا وقت آیا تو اس کی حکومت تو ایک طرف رہی وہ بڑ بھی اس کو نہ بچا سکی۔کہاں تو اس کا یہ اعلان اور دعوی تھا کہ فَاجْعَلُ لِي صَرْحًا لَّعَلِی اَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الكَاذِبِينَ۔(القصص: 39) یعنی پس مجھے ایک محل بنا دے تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں تو سہی اور میں یقیناً یہ خیال کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آیا تو پھر بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لانے پر بھی تیار ہو گیا۔جس کا قرآن کریم میں یوں ذکر ملتا ہے کہ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَاءِ يُلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: 91) کہ جب غرق ہونے کی آفت نے پکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس پر جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں کچی فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔پس کہاں تو یہ بڑ کہ میں اونچے محل پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کا پتہ تو کروں اور کہاں یہ تذلل کہ موت کو سامنے دیکھ کر ڈوبتے وقت یہ اعلان کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لاتا ہوں۔وہ قوم جو فرعون کی نظر میں حقیر قوم تھی اور معمولی مزدوروں کے کام کرتی تھی ان کے خدا کا حوالہ دے رہا ہے۔موسیٰ کے خدا کی بات کرتا تو حضرت موسیٰ اس کے گھر میں پلے بڑھے تھے اور اس لحاظ سے معزز سمجھے جاتے تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت اس سے ایسے الفاظ کہلوائے جو اس کی نہایت ذلت اور عاجزی کی حالت کا اظہار کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے دنیا کے سہاروں کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آج بھی دنیاوی سہاروں کی یہی حقیقت بیان فرمائی ہے۔لیکن دنیا داروں کو پھر بھی سمجھ نہیں آتی۔بادشاہتیں تو علیحدہ رہیں کسی کو اگر کسی عام ممبر پارلیمنٹ کے رشتہ دار سے بھی تعلق پیدا ہو جائے تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتا ہے اور خاص طور پر جو غریب ملک ہیں، جو ترقی پذیر ملک کہلاتے ہیں، ترقی پذیری تو ابھی تک ان میں نہیں آئی لیکن بہر حال کہلاتے ہیں۔ان ملکوں کی یہ عام بیماری ہے اور پاکستان میں تو اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔اس تعلق کی بنا پر جو ان کا بعض افسروں سے ہوتا ہے۔ان پر انتظامیہ سے بھی ظلم کروائے جاتے ہیں۔لیکن ظلم کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اصل حکومت خدا تعالیٰ کی ہے اور جب خدا تعالیٰ کی تقدیر اپنے فیصلے کرنے شروع کرتی ہے تو پھر بڑے بڑے فرعونوں کو بھی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس صرف خدا کا نام لینے سے خدا کا خوف اور ایمان دل میں قائم نہیں ہو جاتا۔خدا کا خوف رکھنے والا وہی کہلاتا ہے جو طاقت