خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 487

487 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 سورتوں کی آیات میں اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ جولوگ ہمارے نشانات کو جھٹلاتے ہیں ان کو ہم ایسا پکڑیں گے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ ہو کیا گیا ہے۔یا ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی جو لوگ تجھے جھٹلا رہے ہیں ان کے جھٹلانے کی پرواہ نہ کر۔اے رسول ! اس جھٹلانے کی وجہ سے تجھ پر اور تیرے ماننے والوں پر جو ظلم ہور ہے ہیں ان کو میرے لئے چھوڑ دے۔یہ نہ سمجھ کہ وہ اپنے ظلموں میں کامیاب ہو جائیں گے یا وہ اپنے ظلموں کی وجہ سے مومنوں کو تجھ سے دُور کر دیں گے۔نہیں وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔میں جو سب طاقتوں کا مالک ہوں۔جو مضبوط اور ٹھوس تد بیر کرنے والا اور طاقتور ہوں۔میں انہیں اس طرح ان کا انجام دکھاؤں گا کہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں گے۔اگر میں انہیں کچھ ڈھیل دے رہا ہوں تو اس لئے کہ شاید ان میں سے کچھ اصلاح کر لیں اور شیطانی حرکتوں سے باز آ جائیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باللہ خدا تعالی کمزوری دکھا رہا ہے جو ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہر چیز اور ہر انسان کی اور ہر مخلوق کی جان ہے بلکہ ہر چیز اس کی پیدا کردہ ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کو کوئی جلدی نہیں ہے۔جب چاہے گا ان ظالموں کے ظلموں کی وجہ سے ان کو پکڑ کے پیس ڈالے گا۔اگر باز نہیں آئیں گے تو خدا تعالیٰ کی چکی اس قدر زور سے چلے گی جو ان کو بالکل خاک کر دے گی۔پس یہ تسلی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت آنحضرت ﷺ کو مکہ میں دی جب ان پر ظلم ہورہے تھے۔فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو لا محدود حکمت ہے جب ضروری سمجھے گی ان بد کرداروں کے انجام تک انہیں پہنچائے گی اور جب خدا تعالیٰ کی تقدیر فیصلہ کرلے کہ دشمن کا کیا انجام ہونا ہے تو جیسا کہ لفظ متین سے ظاہر ہے اور پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کے دشمنوں کو اپنی بڑی مضبوط گرفت میں لے لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو آنحضرت ﷺ سے زیادہ کون پیارا ہو سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ کو آنحضرت ﷺ سے زیادہ پیارا تو کوئی اور نہیں۔اللہ تعالیٰ نے بدر کی جنگ میں اپنے اس محبوب کی مدد کرنے کا اور ظالموں کو گرفت میں لینے کا ایک عظیم مظاہرہ دکھایا۔عتبہ، شیبہ اور ابو جہل جیسے سرداران جو مسلمانوں پر ظلم کرتے ہوئے اپنے آپ کو سب طاقتوں کا مالک اور بڑا مضبوط سمجھا کرتے تھے۔وجاہت کے لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی بڑی مضبوط گرفت والا سمجھتے تھے۔وہ سب خاک و خون میں لتھڑے ہوئے عبرت کا نشان بنے ہوئے تھے۔ابو جہل جو تکبر میں اور طاقت کے گھمنڈ میں سب کو پیچھے چھوڑتا تھا۔گویا کہ اس وقت وہ فرعون وقت تھا اس سے خدا تعالیٰ نے کس طرح انتقام لیا ؟ اور بدانجام کو پہنچا کہ اس کا قتل بھی دو کمسن انصاری بچوں نے کیا اور آخر وقت اس نے کہا کہ کاش میں کسی کسان کے ہاتھ سے قتل نہ ہوا ہوتا۔مدینہ کے لوگ کیونکہ زراعت پیشہ تھے اور مکہ کے جو کفار تھے وہ ان کے زراعت پیشہ ہونے کی وجہ سے انہیں کسان کہتے تھے اور انہیں تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتقام لیا کہ نہ صرف کسانوں سے بلکہ کسانوں کے بچوں سے اس کو قتل کروایا۔اسی طرح بعض دوسرے سردار تھے جن کو قید کی ذلت برداشت کرنا پڑی۔آنحضرت ﷺ نے جب مکہ کے ان 24 سرداروں جو جنگ میں قتل ہوئے تھے