خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 488

488 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 اکٹھا دفنانے کا حکم فرمایا تو جب ان کو وہاں دفنا یا گیا یا جب دفنایا جارہا تھا، آپ اس گڑھے کے پاس تشریف لائے جس میں 24 لاشیں دفنائی گئی تھیں اور اُن مُردوں کو مخاطب کر کے فرمایا هَل وَجَدْتُمُ مَا وَعَدَكُمُ اللهُ حَقًّا فَإِنِّى وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِيَ اللَّهُ حَقًّا کہ کیا تم نے اُس وعدہ کو حق پایا جو خدا نے میرے ذریعہ تم سے کیا تھا؟ یقیناً میں نے اس وعدہ کو حق پا لیا ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ سے کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر فرمایا کہ یہ مرے ہوئے لوگ ہیں آپ ان سے کیا مخاطب ہو رہے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں نہیں پتہ یہ مرے ہوئے تو ہیں لیکن اس وقت یہ جس جگہ پہنچ چکے ہیں وہاں یہ میرے الفاظ سن رہے ہیں۔( مسند احمد بن حنبل جلد اول مسند عمر بن الخطاب، حدیث نمبر 182 صفحہ 130 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس جب خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی سے کہا کہ ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ ، دیکھ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تو تھوڑے سے، معمولی سے جنگی سازوسامان کے ساتھ ایک تجربہ کار اور تمام تر جنگی ساز و سامان سے لیس فوج کی اس طرح کمر توڑی کہ دنیاوی تدبیر سے نہ اتنی فاش شکست دی جاسکتی ہے نہ دنیا نے کبھی یہ نظارہ دیکھا۔اور پھر یہیں پر بس نہیں بلکہ فتح مکہ تک اور اس کے بعد بھی خدا تعالیٰ نے پکڑ کے یہ نظارے دکھائے۔شاہ ایران نے اگر صلى الله آنحضرت مے پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے اُس کے بیٹے کے ذریعہ سے پکڑا۔اور پھر الہی تقدیر یہیں پر ہی نہیں رکی۔آپ کی وفات کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ یہ مملکت بھی آپ کے زیر نگیں ہو گئی۔شاہ ایران نے تو مٹی کا بورا عاصم بن عمرو کے کندھے پر ذلیل کرنے کے لئے اٹھوایا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مٹی کے بورے کو ہی ایران کی فتح کا نشان بنا دیا۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کے قومی اور متین ہونے کی نشانی اور وہ اس طرح پکڑتا ہے کہ جب وقت آتا ہے تو کمزوروں کو طاقتوروں پر حاوی کر دیتا ہے۔اب واپس آنحضرت ﷺ کے زمانے کی طرف آتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو سمجھنے کا موقع بھی عطا فرمایا تھا کہ شاید وہ سمجھ جائیں اور جب آنحضرت ﷺ ہجرت فرما رہے تھے اس وقت بھی ایسے موقعے آئے کہ اگر اس وقت اپنی وہ اپنی فرعونی صفت نہ دکھاتے اور سوچنے کی طرف توجہ دیتے تو پھر کبھی بدر کی جنگ کا معاملہ پیش نہ آتا۔ہجرت کے وقت بھی تین مواقع آئے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر سوچنے کی عقل ہوتی اور نیک فطرت ہوتی تو انہیں یقینا اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتی کہ کوئی طاقت ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے۔اگر یہ طاقت آنحضرت ﷺ کو بچا سکتی ہے تو وہ طاقت ہمیں بھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔پہلے تو جب آنحضرت ﷺے باوجود پہرے کے ان لوگوں کے سامنے سے گزر کر گھر سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو اس وقت اُن کے لئے سوچنے کا موقع ہونا چاہئے تھا۔پھر جب غار میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔