خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 486
486 خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اپنے پیاروں اور انبیاء کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف ایسی تدبیر کرتی ہے کہ جہاں تک مخالفین کی سوچ نہیں پہنچ سکتی کہ وہ اس کے مداوا کا کوئی سامان کر سکیں۔اس کا مداوا صرف ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ جب آنے والی ہے یا آ رہی ہے تو اس سے پہلے ہی جتنی استغفار کی جاسکتی ہے کر لی جائے اور توبہ کی جائے۔گناہوں کی معافی مانگی جائے اور اسی طرح خود انبیاء کو بھی معین طور پر علم نہیں ہوتا کہ خدا نے مخالفین کو کس کس طریقہ سے اور کس ذریعہ سے پکڑنا ہے، سوائے اس کے کہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ خود اس کی نوعیت بتا دیتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو بھی بدر کی جنگ میں بعض سرداران کفار کے انجام کے بارہ میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ان ان جگہوں پر ان کی لاشیں گریں گی۔یہ آیات جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی اب میں کچھ وضاحت کرتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے انجام کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور اس حوالے سے کیا نصیحت فرمائی ہے۔سورۃ اعراف کی آیات 183-184 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ۔وَأُمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِيْنٌ (الاعراف: 183-184)۔اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے نشانات کا انکار کیا ہم ضرور انہیں تدریجاً اس جہت سے پکڑیں گے جس کا انہیں کوئی علم نہیں ہوگا۔اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں۔یقیناً میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔پھر سورۃ القلم کی آیات میں فرمایا کہ فَذَرْنِى وَمَنْ يُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ۔سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ۔وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتين ( القلم : 45-46 ) پس تو مجھے اور اسے جو اس بیان کو جھٹلاتا ہے چھوڑ دے ہم انہیں رفتہ رفتہ اس طرح پکڑ لیں گے کہ انہیں کچھ علم نہ ہو سکے گا۔اور میں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔میری تدبیر یقیناً بہت مضبوط ہے۔اللہ تعالیٰ کے نشانوں کا انکار کرنے والے جنہوں نے مکہ میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کا جینا دوبھر کیا ہوا تھاوہ نہیں جانتے تھے کہ اس ظلم اور زیادتی کی سزا کس طرح ان کو ملنے والی ہے۔اس کا پہلا نظارہ اللہ تعالیٰ نے بدر کی جنگ میں دکھایا۔یہ دونوں سورتیں جو ہیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔سورۃ القلم کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ابتدائی چار پانچ سورتوں میں سے ہے بلکہ بعض کے نزدیک سورۃ العلق کے بعد کی سورۃ ہے۔اسی طرح جو ذاریات ہے اس میں بھی یہ الفاظ آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے ذو القوة المتین ہونے کی بات کرتا ہے۔تو یہ بھی مکی سورۃ ہے۔بہر حال مکہ میں مسلمانوں کی جونا گفتہ بہ اور مظلومیت کی حالت تھی وہ تاریخ اسلام کا ایک دردناک باب ہے۔لیکن ایسے وقت میں خدا تعالیٰ آپ ﷺ کو یہ تسلی عطا فرمارہا ہے کہ میں متین ہوں۔میری پکڑ بڑی مضبوط ہے۔اور ایسی ٹھوس اور مضبوط پکڑ ہے کہ جس سے بچنا ان دشمنان اسلام کے لئے ممکن نہیں اور پھر جنگ بدر میں کس طرح انہیں گھیر کر ان کے تکبر اور غرور کو اللہ تعالیٰ نے تو ڑا، تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں