خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد ہفتم 485 (42) خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2009 ء بمطابق 16 اخاء1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں متین “ کا لفظ تین آیات میں ، تین مختلف سورتوں میں استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ سورۃ اعراف میں، پھر سورۃ ذاریات میں اور سورۃ قلم میں اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے لفظ متین “ کو اپنی صفت کے طور پر بیان فرماتے ہوئے منکرین اور مشرکین کے بد انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔اس کا اظہار فرمایا ہے یا کچھ نصیحت فرمائی ہے۔اس سے پہلے کہ ان جگہوں پر جس سیاق و سباق کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے، کچھ بیان کروں لفظ متین “ کے لغوی معانی بیان کرتا ہوں۔ایک تو اس کا عمومی استعمال ہے اور دوسرے خدا تعالیٰ کے لئے لفظ متین‘استعمال ہوتا ہے دونوں صورتوں میں اس کے کیا معنی بنتے ہیں؟ معنے تو ایک بنتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں ہوگا تو بہر حال وسیع معنوں میں آئے گا۔متن کے معنی ہیں مضبوط پشت والا ہونا ، مضبوط پشت والے آدمی کو جس کی مضبوط کمر ہو متین کہتے ہیں۔بعض لغات میں لغت والے اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ کمر کے وہ پٹھے جو ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ دائیں بائیں، اوپر سے نیچے جاتے ہیں۔پھر اس کے معنی ٹھوس اور مضبوط کے بھی ہیں۔لسان العرب میں جو مختلف معانی لکھے ہیں ان میں سے ایک معنی رَجُلٌ مَتَن ، اس شخص کو کہتے ہیں جو طاقتور دور ہو اور اس کی کمر مضبوط ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفت کے لحاظ سے لسان میں اس کے یہ معنی لکھے ہیں کہ ذُو القُوَّةِ الْمَتِین۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ذات جو اقتدار والی اور مضبوط ہو اور المتین اللہ تعالیٰ کی صفت کے لحاظ سے قومی کے معنوں میں ہے۔ابن الا شیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ذات ہے جو اتنی قوی اور مضبوط ہے کہ جس کو اپنے کاموں میں کوئی تکلیف یا مشقت یا تھکاوٹ نہیں ہوتی۔المسان کا مطلب ہے شدت اور قوت۔اور کوئی ذات قوی تب ہوتی ہے جب وہ اپنی قدرت کے کمال انتہا تک پہنچ جائے۔اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات بہت زیادہ طاقت اور قوت والی ہے۔یہ بھی لسان کے معنی ہیں۔اسی طرح قومی کے لسان میں یہ معنی بھی لکھے ہیں طاقتور ، ٹھوس اور مضبوط۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اپنی طاقت اور قوت کے کمال کے لحاظ سے اور مضبوط اور ٹھوس تدبیر کے لحاظ سے