خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد ہفتم 469 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”تم مومن ہونے کی حالت میں ابتلا کو بُرا نہ جانو اور بُرا وہی جانے گا جو مومن کامل نہیں ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الامْوَالِ وَالا نُفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جان سے یا اولا دیا کھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کریں گے۔مگر جو ایسے وقتوں میں صبر کرتے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لوگوں کو بشارت دو کہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہ اور ان پر خدا کی برکتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اشیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کار ان کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے۔کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا اور وہ لوگ مقام رضا میں بود و باش رکھتے ہیں“۔(اللہ تعالیٰ کی رضا میں خوش رہتے ہیں اور اسی میں رہنا پسند کرتے ہیں اور رہتے ہیں۔ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 150 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ رد عمل ہے جو ہر احمدی کا ہونا چاہئے اور جس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک افراد جماعت نے اظہار کیا ہے اور یہی رد عمل ہماری ترقی کی علامت ہے۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے۔بیشک یہ ہمارا فرض ہے کہ امتحانوں اور ابتلاؤں سے بچنے کی دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہوا ہے۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصیبت اور امتحان آ جائے تو پھر ثبات قدم بڑی اہم شرط ہے اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے انتہا اجر حاصل کرنے والا بنائے گی۔یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبریاں ہیں اور بہت خوشخبریاں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی خوشیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیا ہے۔مامورین کو اور ان کی جماعتوں کو جو مشکلات آتی ہیں اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : ” کوئی مامور نہیں آتا جس پر ابتلا نہ آئے ہوں۔مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو قید کیا گیا اور کیا کیا اذیت دی گئی۔موسی“ کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ آنحضرت ﷺ کا محاصرہ کیا گیا۔مگر بات یہ ہے کہ عاقبت بخیر ہوتی ہے۔(یعنی ساری تکلیفوں کا جو انجام ہے وہ بہتر ہوتا ہے )۔اگر خدا کی سنت یہ ہوتی کہ مامورین کی زندگی ایک مہم اور آرام کی ہو اور اس کی جماعت پلاؤ زردے وغیرہ کھاتی رہے تو پھر اور دنیا داروں میں اور ان میں کیا فرق ہوتا“۔( اگر آرام اور صرف نعمتوں والی آسائش والی زندگی ہوتی اور کوئی تکلیفیں نہ برداشت کرنی ہوتیں تو فرمایا کہ پھر دنیادار میں اور الہی جماعت میں فرق کیا رہ گیا )۔