خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 470
خطبات مسرور جلد هفتم 470 خطبہ جمعہ فرموده 2 اکتوبر 2009 فرماتے ہیں: ”پلاؤ زردے کھا کر حمد اللہ وشکر اللہ کہنا آسان ہے۔اگر آسانیاں ہی آسانیاں ہوں۔کھانے پینے کو ملتا جائے تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا بڑا آسان ہے اور ہر ایک بے تکلف کہ سکتا ہے لیکن بات یہ ہے جب مصیبت میں بھی وہ اسی دل سے کہے“۔(اصل بات یہ ہے کہ جب مشکلات آتی ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر جو ہے وہ اسی دل اور شوق اور جذبے سے ہونا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ملنے پر ہوتا ہے۔فرمایا " مامورین اور ان کی جماعت کو زلزلے آتے ہیں۔ہلاکت کا خوف ہوتا ہے۔طرح طرح کے خطرات پیش آتے ہیں كَذَّبُوا کے یہی معنے ہیں۔دوسرے ان واقعات سے یہ فائدہ ہے کہ کچوں اور پکوں کا امتحان ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو کچے ہوتے ہیں ان کا قدم صرف آسودگی تک ہی ہوتا ہے۔جب مصائب آئیں تو وہ الگ ہو جاتے ہیں“۔( یہ کمزور ایمان والے میں اور پکے میں امتحان ہے۔جب مشکلیں آتی ہیں تو پھر ان کے قدم رک جاتے ہیں۔لیکن جو مضبوط ایمان والے ہوتے ہیں وہ مشکلوں میں بھی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔فرمایا کہ ”میرے ساتھ یہی سنت اللہ ہے کہ جب تک ابتلا نہ ہو تو کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا۔خدا کا اپنے بندوں سے بڑا پیار یہی ہے کہ ان کو ابتلا میں ڈالے۔جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یعنی ہر ایک قسم کی مصیبت اور دکھ میں ان کا رجوع خدا تعالیٰ ہی کی طرف ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے انعامات انہی کو ملتے ہیں جو استقامت اختیار کرتے ہیں۔خوشی کے ایام اگر چہ دیکھنے کو لذیذ ہوتے ہیں مگر انجام کچھ نہیں ہوتا۔رنگ رلیوں میں رہنے سے آخر خدا کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے“۔( زیادہ آسائشوں میں اور رنگ رلیوں میں رہو تو اللہ تعالیٰ سے رشتہ ختم ہو جاتا ہے )۔خدا کی محبت یہی ہے کہ ابتلا میں ڈالتا ہے اور اس سے اپنے بندے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے“۔(اس ابتلا سے بندے کی جو عظمت ہے، بڑائی ہے ، اس کے ایمان کی مضبوطی ہے وہ ظاہر ہوتی ہے )۔مثلاً کسری اگر آنحضرت ﷺ کی گرفتاری کا حکم نہ دیتا تو یہ معجزہ کہ وہ اسی رات مارا گیا کیسے ظاہر ہوتا اور اگر مکہ والے لوگ آپ کو نہ نکالتے تو فَتَحْنَالَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (الفتح 02) کی آواز کیسے سنائی دیتی۔ہر ایک معجزہ ابتلاء سے وابستہ ہے۔غفلت اور عیاشی کی زندگی کو خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کامیابی پر کامیابی ہو تو تضرع اور ابتہال کا رشتہ تو بالکل رہتا ہی نہیں ہے حالانکہ خدا تعالیٰ اسی کو پسند کرتا ہے۔اس لئے ضرور ہے کہ دردناک حالتیں پیدا ہوں“۔ا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 587-586 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی جانیں دیتے ہیں ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو خوشخبریاں دیتا ہے۔جو آستیں میں نے تلاوت کی ہیں ان میں سے آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا پھر اعادہ فرمایا۔پھر اسی بات کو دوہرایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور