خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد ہفتم 468 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 پلیس (Open space) جو دار النصر میں ہے اس پر بھی حکومت نے یہ فیصلہ کر کے کہ یہ ہماری جگہ ہے نا جائز قبضہ کر لیا۔پھر اولا دوں اور جانوں کے ذریعہ آزمایا جاتا ہے۔بچوں کے تعلیمی کیریئر جو ہیں وہ برباد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سکولوں میں بچوں کو اس طرح تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ بچہ بے دل ہو کر سکول ہی نہ جائے۔کچھ عرصہ پہلے فیصل آباد میں میڈیکل کالج میں یہی ہوا تھا کہ طلباء کو پڑھائی سے روکا گیا۔لیہ میں جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ چار بچوں پر ظلم کرتے ہوئے انہیں جیل میں ڈالا گیا۔اگر ان کے والدین بچوں کے احمدیت سے توبہ کا اعلان کر دیتے تو وہی مقدمہ جو مولویوں نے ہتک رسول کا ان بچوں کے خلاف بنوایا تھا فوری طور پر بدل جاتا۔کیونکہ وہ یہی چاہتے تھے کہ احمدی کسی طرح خوف سے اپنے ایمان سے پھر جائیں۔تو یہ ان لوگوں کی چالیں ہیں کہ احمدیوں کو ہر قسم کے ابتلاؤں سے گزار کر احمدیت سے ہٹایا جائے۔لیکن نہیں جانتے کہ احمدی تو حقیقی مسلمان ہیں اور قرآن کریم میں لکھے ہوئے ہر ہر حرف پر یقین رکھتے ہیں۔انہیں تو پہلے ہی خدا تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ ان ذرائع سے آزمایا جائے گا۔پس ثابت قدم رہنا اور انجام کا انتظار کرنا اور ہر مصیبت پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنا یعنی ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، یہی احمدی کا وطیرہ ہے۔یہ جو دکھ دیئے جاتے ہیں یا دئیے جائیں گے ان پر صبر ہی ہے جو احمدی نے ہر وقت دکھانا ہے۔اور صبر یہی ہے کہ دکھ محسوس تو بے شک کر ولیکن اس دُکھ کی وجہ سے اپنے ہوش و حواس کبھی نہ کھونا۔شکوے شکائیتیں کبھی نہ کرنا۔بلکہ ہر نقصان پر ہر ابتلا پر خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھنی ہے۔اس یقین پر قائم ہونا ہے کہ بے شک یہ بتلایا امتحان ہے لیکن عارضی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں میرے حق میں انشاء اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرے گا۔ہر قسم کے نقصان پر یہ سوچ رکھنی ہے کہ میری جان بھی، میری اولاد بھی، میرا مال بھی اور میری جائیداد بھی اس دنیا کی عارضی چیزیں ہیں اور اگر یہ خدا تعالیٰ کی خاطر قربان کی جارہی ہیں تو میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا پہلے سے بڑھ کر وارث بننے والا ہوں۔جب انسان إِنَّا لِلَّهِ کہتا ہے تو اس یقین پر کامل طور پر قائم ہونا چاہئے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے ہیں اور جو ہمارے مال، اولاد ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے ہیں۔پس اگر وہ چاہتا ہے کہ یہ نعمتیں جو اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں وہ واپس لے لے تو اس پر ہمیں کسی قسم کا جزع فزع کرنے اور رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ وہ یہ کہتے ہیں وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یعنی ہم بھی اسی کی طرف جانے والے ہیں۔اور جب ہم اسی کی طرف جانے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اخروی زندگی میں اس دنیا سے بہتر سامان ملنے والے ہیں۔پس جب ایک مومن کی یہ سوچ ہوتی ہے تو دنیاوی نقصانات جو اسے کسی وجہ سے پہنچ رہے ہوں اس کے لئے عارضی افسوس کا باعث تو بن سکتے ہیں لیکن زندگی کا روگ نہیں بن جایا کرتے۔