خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 459

459 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پھر بارہویں علامت یہ ہے کہ جب اُن کے سامنے خدا تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے بلکہ کان کھول کر توجہ سے سنتے ہیں۔قرآن کریم کے حوالے سے جو نصائح کی جائیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی روحانیت کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس عباد الرحمن بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر قسم کی نیک نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ نہ دیکھیں کہ کون کہ رہا ہے۔یہ دیکھیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے سے کی جارہی ہے اس پر عمل کرنا ہے۔ورنہ عمل نہ کرنا انسان کے لئے ٹھو کر کا باعث بن سکتا ہے۔اور پھر نہ صرف یہ کہ عباد الرحمن کے زمرے سے نکل جاتے ہیں بلکہ آہستہ آہستہ جماعت سے بھی دُور ہو جاتے ہیں۔پھر تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اولادوں کے لئے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک رکھے۔پس آئندہ نسلوں کی بقا کے لئے یہ نہایت اہم نسخہ ہے کہ جہاں ظاہری تدبیریں اور کوششیں ہو رہی ہیں جو اپنی اولاد کی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے ایک انسان کرتا ہے وہاں دعا بھی ہو کیونکہ اصل ذات تو خدا تعالیٰ کی ہے جو اچھے نتائج پیدا فرماتا ہے۔اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ وہ لوگ اپنی ذاتی صلاحیت سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہے ہوتے ہیں تو یہ بھی خیال غلط ہے۔ایسے لوگ جو دنیا دار لوگ ہیں اگر اپنی اولاد کی ترقی دیکھتے ہیں تو یہ ترقی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے صدقے تو بے شک انہیں فائدہ دے رہی ہے یا اس سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ صرف دنیاوی ترقی ہے، دنیاوی معاملات کی ترقی ہے۔لیکن وہ رحمان کے بندے کہلانے والے نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں متقیوں کا امام ہونے کا اعزاز نہیں بخشا اور متقیوں کا امام ہونے کی وجہ سے اپنے تقویٰ میں بڑھنے کی طرف ان کی توجہ نہیں پھیری۔لیکن جو اپنی اولاد کے لئے تقویٰ میں بڑھنے کی دعا بھی مانگے گا وہ صرف ان کی دنیاوی ترقی نہیں مانگے گا بلکہ دینی اور روحانی ترقی بھی مانگے گا اور پھر خود بھی تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کرے گا۔اللہ تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنے والا ہوگا۔آجکل دنیا میں ہر جگہ معاشرے میں بچوں کی تعلیم اور دنیاوی ترقی کے لئے والدین بڑے پریشان رہتے ہیں لیکن روحانیت کی طرف بہت کم توجہ ہے۔یہاں مغربی ممالک میں تو آزادی کے نام پر اب بچوں کو اتنا بیباک کر دیا گیا ہے کہ وہ والدین کی نصیحت ماننے سے بھی انکاری ہوتے چلے جارہے ہیں۔اور اب ان لوگوں کو احساس ہورہا ہے، پروگرام بھی ٹی وی پر آنے شروع ہو گئے ہیں کہ یہ ضرورت سے زیادہ آزادی ہے جو بچوں کو دی جارہی ہے۔والدین نے بچوں کا امام کیا بننا ہے اب تو بچے والدین کے آگے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بہت سے کیس ایسے ہونے لگ گئے ہیں کہ بچے والدین پر ہاتھ اٹھانے لگ گئے ہیں۔ذراسی روک ٹوک بھی برداشت نہیں کرتے ہیں۔کوئی نیک نصیحت کی جائے برداشت نہیں کرتے۔جیسا کہ میں نے کہا اب یہ آواز میں اٹھنے لگ گئی ہیں کہ اگلی نسل کو اگر