خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 458
458 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 لیں گے۔سچ سے کام لیں گے۔ایسا سچ بولیں گے جس میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔جس سے کوئی اور مطلب بھی اخذ نہ کیا جا سکتا ہو۔صاف ستھری بات ہو۔لیکن شادی کے بعد لڑکی لڑکے سے غلط بیانی کرتی ہے اور لڑکا لڑکی سے غلط بیانی کرتا ہے۔دونوں کے سسرال والے ایک دوسرے سے غلط بیانی کر رہے ہوتے ہیں اور یوں ان رشتوں میں پھر دراڑیں پڑتی چلی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ یہ ختم ہو جاتے ہیں۔صرف ذاتی اناؤں اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے گھر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔اگر بچے ہو گئے ہیں تو وہ بھی برباد ہو جاتے ہیں۔پہلے بھی کئی مرتبہ میں اس بارہ میں کہہ چکا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے بھی اور بندوں کے حق ادا کرنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ ایک مؤمن کو ، ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو عبادالرحمن میں شمار کرتے ہیں ہر قسم کے جھوٹ سے نفرت ہو۔پھر گیارہویں علامت یہ ہے کہ مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا یعنی دنیوی لذات سے متاثر ہو کر اس میں شامل نہیں ہو جاتے۔اس زمانے کی لغویات جیسا کہ میں نے کہا ہے انٹرنیٹ بھی ہے، یہ ٹی وی چینلز بھی ہیں جو پروگراموں کے دکھانے میں، عجیب طرح کے غلط پروگراموں کے دکھانے میں مصروف ہیں۔پھر آجکل لڑکے لڑکیاں سکولوں میں، کالجوں میں، گروپ بنا کر پھرتے ہیں، کلبوں میں جاتے ہیں، پھر ڈانس گانے وغیرہ کئے جاتے ہیں۔یا اس کے پروگرام بنائے جارہے ہوتے ہیں یا کنسرٹ دیکھنے کے پروگرام بنائے ہوتے ہیں۔تو ایک مومن کے لئے یہ سب لغویات ہیں۔ایک طرف تو ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ہم عبادالرحمن بنے کا بھی عہد کرتے ہیں۔پھر اس کے باوجو د لغویات میں شامل ہونا ، ایسی باتوں میں شامل ہونا جو سراسر اخلاق کو برباد کر نے والی باتیں ہیں۔پس حقیقی احمدی کے لئے ضروری ہے کہ ان سے پر ہیز کرے۔پھر لغویات میں لڑائی جھگڑا وغیرہ بھی شامل ہے۔پہلے بھی اس کا تفصیل سے ذکر آ چکا ہے۔پھر کسی بھی قسم کی بات جو معاشرے کے امن کو برباد کرنے کا ذریعہ بننے والی ہے ، یہ سب لغویات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا۔۔۔اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہوتو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں اور ادنی ادنی بات پر لڑ نا شروع نہیں کر دیتے۔یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنیٰ ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرما دیں۔اور لغو کالفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یا بہ نیت ایذا ایسا فعل اس سے صادر ہو کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔سو صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایڈا سے چشم پوشی فرما دیں اور بزرگانہ سیرت عمل میں لاویں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 349)