خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 457

457 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 رکھتے ہیں کہ ان کی کوئی حرکت اور ان کا کوئی عمل کسی قسم کے شرک خفی کا باعث نہ بنے۔انتہائی محتاط ہوتے ہیں۔نہ ان کی ملازمتیں ان کی عبادتوں کے سامنے روک بن رہی ہوں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ جمعہ میں بیان کیا تھا کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک خفی ہے۔پھر آٹھویں شرط یا خصوصیت عباد الرحمن کی یہ بتائی کہ کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے۔آنحضرت ﷺ نے اگر جنگیں لڑیں اور صحابہ نے یا خلفاء نے ، خلفاء راشدین نے بھی اور بعد میں مسلمانوں نے بھی تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اگر جنگیں لڑیں تو دشمن کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے اور اس کے ہاتھ کو ظلم سے روکنے کی وجہ سے جنگیں لڑیں اور کوشش یہ کی بلکہ آنحضرت ﷺ نے بھی ، آپ کے خلفاء نے بھی حکم دیا کہ کوئی بچہ، کوئی عورت، کوئی مذہبی لیڈر، پادری راہب وغیرہ جو جنگ میں شامل نہیں اس کو قتل نہیں کرنا۔لیکن اس کے مقابلہ پر ہم دیکھتے ہیں (کہ) صرف ) دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں معصوم جاپانیوں کو قتل کر دیا گیا۔آجکل بھی امن قائم کرنے کے بہانے جہازوں سے حملے کر کے معصوم شہریوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔جاتا ہے۔یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو عبادالرحمن سمجھتے ہیں وہ بھی خود کش حملے کر کے معصوم جانوں کا خون کر رہے ہیں۔اسلام کے نام پر ، مذہب کے نام پر جو خون ہو رہا ہے یہ ایک اور دردناک اور بھیانک کہانی ہے۔پس خدا تعالیٰ کا ایسے لوگوں کے لئے فیصلہ یہ ہے کہ وہ کبھی عبادالرحمن نہیں ہو سکتے۔پھر نویں خصوصیت یا علامت عبادالرحمن کی یہ ہے کہ وہ زنا نہیں کرتے۔اس میں عملی زنا بھی شامل ہے اور گندے بیہودہ پروگرام اور نظارے دیکھ کر ان سے لطف اٹھانا بھی شامل ہے اور آجکل انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز پر جو بعض ایسے پروگرام دیکھے جاتے ہیں یہ سب ذہنی اور نظری زنا میں شمار ہوتے ہیں۔پس احمدی کو ان سے بھی خاص طور پر بچنا چاہئے۔پھر دسویں خصوصیت یہ ہے کہ عباد الرحمن نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔یہ جھوٹ بھی قوموں کے تنزل اور تباہی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بندے اور الہی جماعتیں جو ہیں انہوں نے تو اونچائی کی طرف جانا ہے اور ان سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ ان کے لئے ترقی کی منازل ہیں جو انہوں نے طے کرنی ہیں اور اوپر سے اوپر چلتے چلے جانا ہے۔اُن میں اگر جھوٹ آ جائے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے نہیں رہتے جن پر اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے یا جن سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمانے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔پس احمدیوں کو اپنی گواہیوں میں بھی اور اپنے معاملات میں بھی جب پیش کرتے ہیں تو سو فیصد سچ سے کام لینا چاہئے۔مثلاً عائلی معاملات ہیں۔نکاح کے وقت اس گواہی کے ساتھ رشتہ جوڑنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم قول سدید سے کام