خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 456

456 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دے کے بلایا جاتا ہے۔مہندی کرنی ہے تو لڑکیاں یا اس دلہن کی جو سہیلیاں ہیں وہ جمع ہوں اور رونق لگا لیں لیکن اس میں روز بروز وسعت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور صرف دیکھا دیکھی۔پھر ایک نئی رسم یہ پیدا ہوگئی ہے کہ لڑکے والے بھی شادی سے پہلے رونق لگانے کے نام پر دعوت کرنے لگ گئے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ یہ غلط قسم کی جو رسم ہے بلکہ بدعت ہے اس میں اچھے بھلے دین کا علم رکھنے والے بھی شامل ہو گئے ہیں۔اور پھر جو کسی وجہ سے اتنی زیادہ زیادہ دعوتیں نہ کرے ( بہر حال ہمیں حسن ظن یہی رکھنا چاہئے کہ کسی نیکی کی وجہ سے ) تو اس کے متعلق پھر باتیں کی جاتی ہیں کہ یہ کنجوس ہے، یہ فلاں ہے۔خاص طور پر باہر کے ملکوں سے لوگ پاکستان جاتے ہیں تو وہ دعوتوں ، زیور اور جوڑوں وغیرہ پر بے انتہا خرچ کرتے ہیں اور ہر ایک بڑھ بڑھ کر خرچ کر رہا ہوتا ہے۔تو یہ سب اسراف ہے۔یہی بچت جو ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا یہ غریبوں کے کام آ سکتی ہے۔غریبوں کی شادیوں میں کام آ سکتی ہے۔بہت ساری رقوم قیموں کو پالنے کے کام آ سکتی ہیں اور دوسرے نیکی کے کاموں میں خرچ ہو سکتا ہے۔اس طرح اگر بچت کرنے کا احساس پیدا ہو جائے تو یہی چیز ہے جو انسان کو عبادالرحمن بناتی ہے۔پھر چھٹی چیز یہ بیان فرمائی کہ لَمْ يَقْتُرُوا کہ بخل اور کنجوس بھی نہیں کرتے۔اور بعض لوگ کنجوسی کر کے جہاں جائز ضرورت ہے وہاں بھی خرچ نہیں کرتے۔کنجوسی کی انتہا کر دیتے ہیں اور وہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ مال جوڑتے چلے جائیں۔بعض لوگ تو اس حد تک کنجوس ہوتے ہیں کہ اپنی جو ذاتی جائز ضروریات ہیں ان پر بھی خرچ نہیں کرتے۔نہ اپنے عزیزوں کی مدد کرتے ہیں، نہ غریبوں کے لئے کچھ دیتے ہیں۔نہ ہی جماعت کے لئے قربانی کا مادہ ان میں ہوتا ہے۔پس جو صاحب حیثیت ہوتے ہیں مال ہوتے ہوئے بھی خرچ نہ کریں تو وہ بھی عباد الرحمن میں شامل نہیں ہو سکتے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے اسراف کرنے والوں کو نا پسند فرمایا ہے اور عبادالرحمن سے اُنہیں باہر نکالا ہے وہاں بخل کرنے والوں کو بھی انتہائی نا پسند فرمایا ہے۔ایک تو وہ جو خرچ ہے اس کا حق ادا نہیں کر رہا۔دوسرے پیسے کو روک کر اور صرف جمع کر کے معاشرے کی ترقی میں بھی روک ڈالنے کا باعث بن رہا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عباد الرحمن میں نہ حد سے زیادہ شاہ خرچی ہو اور دنیا دکھاوے کے لئے شاہ خرچی ہو اور نہ ہی اتنی زیادہ کنجوسی کہ جائز ضرورت پر بھی خرچ نہ کریں۔بلکہ اس کے بین بین رہنا چاہئے اور عباد الرحمن کا خرچ کرنا بھی اور خرچ سے رکنا بھی خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو۔پھر ساتویں علامت یہ بتائی کہ عبادالرحمن شرک کے قریب بھی نہیں جاتے۔شرک خدا تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ظلم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک نہیں۔عبادالرحمن کے ساتھ جو شرک کو مخصوص کیا گیا ہے تو یہ صرف ظاہری شرک نہیں کہ بتوں کی پوجا کی جائے بلکہ شرک خفی سے بھی بچتے ہیں۔ان کی عبادتوں اور دوسرے حقوق کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہوتی ہے اور بڑی باریکی سے اس بات کا خیال