خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 421

421 خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَقِمُ كَمَا أُمِرُتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوُا۔إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بصير (هود: 113) پس جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے تو اس پر مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ بھی قائم ہو جائیں جنہوں نے تیرے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو یقیناً وہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ سورۃ ھود کی آیت ہے۔تو یہ حکم صرف آنحضرت ﷺ کے لئے نہیں تھا۔ویسے تو ہر حکم جو آپ پر اتر اوہ اُمت کے لئے ہے۔آپ کے ماننے والوں کے لئے ہے۔لیکن یہاں خاص طور پر مومنوں کو اور تو بہ کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ تمام احکامات پر مضبوطی سے عمل کرو اور کرواؤ۔اور ایک بات یاد رکھو کہ صرف عبادات پر ہی انحصار نہ ہو بلکہ اصل چیز جو اس کا مغز ہے اس کو تلاش کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور یہ حکم آپ کو دے کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے توبہ کی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو جانیں اور سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ اس کا علم حاصل کریں اور کبھی اس سے تجاوز کرنے کی کوشش نہ کریں تبھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔اس میں ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی بھی ایسی تربیت کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کے اس کلام کو سمجھنے اور غور کرنے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: مجھے تو سخت افسوس ہوتا ہے جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کی طرح بھی احساس موت نہیں کرتے۔رسول اللہ ﷺ کو دیکھ وصرف ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساس موت ہے۔آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی۔صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں“۔کوئی حکم ہوا تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ مجھے اس آیت نے بوڑھا کر دیا۔کس لئے تا کہ اُمت ، جو ماننے والے ہیں وہ بھی اس سے سبق لیں۔ان کی فکر تھی آپ کو۔فرماتے ہیں کہ دور نہ رسول اللہ ﷺ کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقرر فرمایا۔مگر آپ کی زندگی کے گل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ ﷺ کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو و یا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔ریویو آف ریلیجنز نمبر 1 جلد 3 صحہ 11 جنوری 1904ء مطبوعہ قادیان ضلع گورداسپور 20 جنوری 1904ء) اس کی مزید وضاحت بھی آپ نے فرمائی ہے۔فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۃ ھود نے بوڑھا کر دیا کیونکہ اس حکم کے رو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سپرد ہوئی ہے۔اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری جہاں تک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے ممکن ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔لیکن دوسروں کو ویسا ہی بنانا آسان