خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 420
420 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 ستمبر 2009 پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور حکم ہے کہ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِه (البقرة : 232) اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہے اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت میں اتارا ہے۔وہ اس کے ساتھ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے جو احکامات قرآن کریم میں ہیں یہ سب نعمت ہیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں۔سورۃ نور کے شروع میں بتا دیا کہ یہ نعمت جو تمہیں دی گئی ہے۔اس میں احکامات ہیں اس میں غور کرو۔جب تک پڑھو گے نہیں ان نعمتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتے ان کا فہم ہی نہیں ہو سکتا۔پس قرآن کریم پڑھنا نصیحت حاصل کرنا ہے اور ایک مومن کے لئے یہ انتہائی ضروری چیز ہے۔کیونکہ یہی چیز ہے جو انسان کو تقویٰ میں بڑھاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کتب أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ مُبَرَكَ لِيَدَّبَّرُوا ايته وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلْبَابِ (ص: 30) یہ کتاب ہے جسے ہم نے تیری طرف نازل کیا، مبارک ہے تا کہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور تا کہ عقل والے نصیحت پکڑ لیں۔پس قرآن شریف کو ماننے والے اور اس کو پڑھنے والے ہی عقل والے ہیں۔کیوں عقل والے ہیں؟ اس لئے کہ اس کتاب میں تمام سابقہ انبیاء کی تعلیم کی وہ باتیں بھی آ جاتی ہیں جن کو اللہ تعالی قائم رکھنا چاہتا تھا، جو صحیح باتیں تھیں اور اس زمانے کے لئے ضروری تھیں۔اور موجودہ اور آئندہ آنے والی تعلیم یا ان باتوں کا بھی ذکر ہے جو ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سمجھا کہ یہ تا قیامت انسان کے لئے ضروری ہیں اور وہ آنحضرت صلی الله۔نازل فرما ئیں۔پس اس اعلان پر جو قرآن کریم نے کیا ہے غور کرو۔نصیحت پکڑو اور عقل والوں کا یہی کام ہے۔اس اعلان کا ہم تبھی چرچا کر سکتے ہیں جب اس تعلیم کو ہم خود بھی اپنے اوپر لاگو کر نے والے ہیں۔پھر تلاوت کے بارہ میں کہ کس طرح سننی چاہئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: 205) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہوتا کہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآن کریم کا یہ احترام ہے جو ہر احمدی کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اور اپنی اولاد میں بھی اس کی اہمیت واضح کرنی چاہئے۔بعض لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں۔تلاوت کے وقت اپنی باتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔بعض دفعہ بعض گھروں میں ٹی وی لگا ہوتا ہے اور تلاوت آ رہی ہوتی ہے اور گھر والے باتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔خاموشی اختیار کرنی چاہئے۔یا تو خاموشی سے تلاوت سنیں یا اگر با تیں اتنی ضروری ہیں کہ کرنی چاہئیں، اس کے کئے بغیر گزارا نہیں ہے تو پھر آواز بند کر دیں۔یہ حکم تو غیروں کے حوالے سے بھی ہے کہ اگر خاموشی سے اس کلام کو سنیں تو انہیں بھی سمجھ آئے کہ یہ کیسا زبر دست کلام ہے۔اور اللہ تعالیٰ پھر اس وجہ سے ان پر رحم فرماتے ہوئے ان کی ہدایت اور راہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما دے گا۔پس ہمیں خود اس بات کا بہت زیادہ احساس ہونا چاہئے کہ اللہ کے کلام کو خاموشی سے سنیں اور سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا رحم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔