خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 422

422 خطبہ جمعہ فرموده 4 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نہیں ہے۔اس سے ہمارےنبی کریم ﷺ کی بلندشان اور قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے۔چنانچہ آپ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ ان کو كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( سورة آل عمران آیت نمبر 111) کہا گیا اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( المائدہ: 120 ) کی آواز ان کو آ گئی۔آپ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔غرض ایسی کامیابی آپ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات زندگی میں نہیں ملتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل وقال ہی تک بات نہ رکھنی چاہئے۔( صرف زبانی جمع خرچ نہ ہو ) کیونکہ اگر نزے قیل و قال اور ریا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف؟“۔(الحکم۔جلد 5 نمبر 29۔مورخہ 10/اگست 1901 ، صفحہ 1 کالم 1,2) پس آج یہ سبق ہمارے لئے بھی ہے کہ قیل و قال تک بات نہ رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کی جائے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔جیسا کہ ایک جگہ فرمایا کہ هَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام: 156 ) اور یہ مبارک کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم رحم کئے جاؤ۔پھر ایک اور بات جو معاشرے کے لئے، امن کے لئے ضروری ہے اس کا میں یہاں ذکر کر دوں۔پہلے ہی ذکر آنا چاہئے تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِذَا جَاءَ كَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِايَتِنَا فَقُلْ سَلَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءُ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الانعام: 55) اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہا کر تم پر سلام ہو۔تمہارے لئے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت فرض کر دی ہے۔یعنی یہ کہ تم میں سے جو کوئی جہالت سے بدی کا ارتکاب کرے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو یا در کھے کہ وہ ( یعنی اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو معاشرے کا حسن بڑھاتی ہے۔جب سلامتی کے پیغام ایک دوسرے کو بھیج رہے ہوں گے تو آپس کی رنجشیں اور شکوے اور دوریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور ہو جانی چاہئیں۔بھائی بھائی جو آپس میں لڑے ہوئے ہیں۔ناراضگیاں ہیں۔ان میں صلح قائم ہو جائے گی۔ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں اور قرآن کریم پر ہمارا پورا ایمان ہے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو پھر قرآن تو کہتا ہے کہ سلامتی بھیجو۔ایک دوسرے پر سلامتی بھیجو۔اور یہاں بعض جگہ پر ناراضگیوں کا اظہار ہورہا ہوتا ہے۔پس غور کرنا چاہئے اور اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو قرآن کریم کی اعلی تعلیم اور احکامات ہیں ان کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔پس ہر احمدی کو قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ کوئی