خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد ہفتم 414 خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا بلکہ خود قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُسے مہجور کی طرح نہ چھوڑ دینا۔پس تعلیم یہ ہے کہ غور بھی ہو عمل بھی ہو ، تلاوت بھی ہو۔نہ کہ مہجور کی طرح چھوڑ دیا گیا ہو۔اور یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرمانے کے بعد کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔پھر فرماتا ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ یعنی انسانوں کی ہدایت کے لئے اتارا گیا ہے اس میں ہدایت کی تفصیل بھی ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والے امور بھی بیان کئے گئے ہیں۔پس جب تک اس کی تلاوت کا حق ادا نہ ہو، نہ ہدایت کی تفصیل پتہ لگ سکتی ہے، نہ ہی جھوٹ اور سچ کا فرق واضح ہو سکتا ہے۔پس ہر مومن کا فرض ہے کہ اگر روزوں کا حقیقی حق ادا کرنا ہے تو قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے احکامات کی تلاش بھی ضروری ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کے بارہ میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح حکم فرمایا ہے وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔وَاَنْ اَتْلُو الْقُرْآنَ (النمل: 92-93)۔یعنی اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو جاؤں اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔پس حقیقی فرمانبرداری یہی ہے کہ جو کامل شریعت خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتاری ہے اور جس کو ماننے کا ہمارا دعویٰ ہے اور پھر اس زمانے میں مسیح الزمان و مهدی دوران کو ماننے کا ہم اعلان کرتے ہیں تو پھر اس کامل کتاب کی یعنی قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں اور اس رمضان میں جہاں اس کو باقاعدگی سے پڑھنے کا عہد کریں اور پڑھیں وہاں اس بات کا بھی عہد کریں کہ ہم نے رمضان کے بعد بھی روزانہ ہم نے اس کی تلاوت کرنی ہے اور اپنے پر اس کی تلاوت کو فرض کرنا ہے۔اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنی ہے۔کیونکہ یہی چیز ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوگی اور یہی چیز ہمارے لئے رمضان کی مقبولیت کا باعث بنے گی۔اور یہی بات ہے جس کی طرف خاص طور پر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے یعنی اس حقیقی تعلیم پر عمل کو بھول نہ جانا۔صرف پڑھنا ہی نہ رہے۔صرف تلاوت کرنا ہی نہ رہے۔بلکہ اس پر عمل بھی ہونا چاہئے۔ورنہ مردہ کی طرح ہو جاؤ گے۔روحانی زندگی جو ہے وہ نہیں رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت کا عہد جو ہے وہ فضول ٹھہرے گا۔فرمایا کہ پس اس کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دینا۔پھر فرمایا کہ ” جولوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13