خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 413

413 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 وہ دیئے۔اور یہ واضح فرما دیا کہ روزے رکھنا اور عبادت کرنا صرف یہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس مہینے میں قرآن کریم کی طرف بھی تمہاری توجہ ہونی چاہئے۔اس کے پڑھنے کی طرف تمہاری توجہ ہونی چاہئے۔روزوں کی اہمیت اس لئے ہے اور اس لئے بڑھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں انسان کامل پر اپنی آخری اور کامل شریعت نازل فرمائی جو قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی۔خدا تعالیٰ کا قرب پانے اور دعاؤں کے اسلوب تمہیں اس لئے آئے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں وہ طریق سکھائے جس سے اس کا قرب حاصل ہو سکتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔پس اس کتاب کو پڑھنا بھی بہت ضروری ہے۔رمضان میں اس کی تلاوت کرنا بھی بہت ضروری ہے تا کہ سارا سال تمہاری اس طرف توجہ رہے۔آنحضرت ﷺ کے آخری رمضان میں جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو دو مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کروایا۔( صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن على النبي حديث 4998-4997) پس اس سنت کی پیروی میں ایک مومن کو بھی چاہئے کہ دو مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کرنے کی کوشش کرے۔اگر دومرتبہ تلاوت نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک مرتبہ تو خود پڑھ کر کریں۔پھر درسوں کا انتظام ہے، تراویح کا انتظام ہے، اس میں ( قرآن ) سنیں۔بعض کام پہ جانے والے ہیں کیسٹ اور CDS ملتی ہیں ان کو اپنی کاروں میں لگا سکتے ہیں، سفر کے دوران سنتے رہیں۔اس طرح جتنا زیادہ سے زیادہ قرآن کریم پڑھا اور سنا جا سکے ، اس مہینے میں پڑھنا چاہئے اور سننا چاہئے۔اور پھر صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کے اندر بیان کردہ احکامات کی تلاش کرنی چاہئے۔پھر سارا سال اُن تلاش شدہ احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ان حکموں کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تبھی رمضان کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے اور روزوں اور عبادتوں کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں پتہ کہ جو کام کر رہا ہوں اس کا مقصد کیا ہے اور کیوں خدا تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں تو ان اعمال کے حق ادا نہیں ہو سکتے۔بلکہ اعمال کا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ کیا کرنا ہے۔اگر صرف یہی سنتے رہیں کہ تقویٰ پر چلو اور اعمال صالحہ بجالا ؤ اور یہ پستہ نہ ہو کہ تقویٰ کیا ہے اور اعمال صالحہ کیا ہیں تویہ تو دیکھا دیکھی ایک نظام چل رہا ہے رمضان کے دنوں میں یا عام تقریر میں سن لیں ، آگے چلے گئے، خطبات سن لئے ، چلے گئے۔ایک کام تو ہورہا ہو گا لیکن اس کی روح کا پتہ نہیں چلے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تلاوته (البقرة : 122 ) یعنی وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے۔یعنی غور بھی باقاعدگی سے ہو۔اور غور بھی اچھی طرح ہو تلاوت میں بھی با قاعدگی رہے اور پھر جو پڑھا یا سنا اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو۔