خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد ہفتم 394 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسوں کے انعقاد کا ایک مقصد یہ بھی بتایا ہے کہ غیر قوموں میں تبلیغ کے راستے تلاش کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جلسہ کی کارروائی دیکھ اور سن کر جلسہ کی برکت سے اور نیک اثر قائم ہونے کی وجہ سے، نیک نمونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پھل بھی عطا فرما تا ہے۔یہاں ایک وضاحت یہ بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ یو کے پرمیں نے نئے شامل ہونے والے ملکوں میں لیتھو مینیا کا نام بھی لیا تھا جس پر مجھے یہ بات پہنچی کہ یہ ملک تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے وقت میں شامل ہو گیا تھا اور دوبارہ تعداد بڑھانے کے لئے شاید نام لیا گیا ہے۔ملکوں کی تعداد جو میں نے 193 بتائی ہے اس کو شامل کر کے بھی تعدا د اتنی ہی بنتی ہے۔اس بارہ میں ایک وضاحت یہ بھی کر دوں کہ 1992ء میں یہاں جماعت کا نفوذ ہوا تھا۔چندلوگوں نے بیعت کی تھی۔وہاں مشن بھی کھولا گیا تھا۔مبلغین سلسلہ کو بھی بھجوایا گیا تھا۔اس دوران وہاں جماعتی حالات خراب ہو گئے اور جو چند احمدی ہوئے تھے انہوں نے تاتاری مخالفین کے ساتھ مل کر جماعت کی مخالفت شروع کر دی اور معاندانہ رویہ رکھا اور پیچھے ہٹ گئے۔ان حالات میں اپریل 1994ء میں وہاں سے مبلغ کو بھی فوراً نکالنا پڑا۔تو 1995ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر لیتھوینیا کو ان ممالک کی لسٹ سے نکال دیا گیا جہاں جماعت قائم کی گئی تھی۔خود حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اس کا اعلان فرمایا تھا کہ میں اس کو نکالتا ہوں۔جرمنی کے سپرد یہ ملک کیا گیا تھا۔اب 14 سال کے بعد اس ملک میں نئے سرے سے احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ایک مخلص خاتون جماعت میں شامل ہوئی ہے۔شادی بھی پاکستانی سے ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں رابطے مزید بڑھ رہے ہیں اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت وہاں ترقی کرتی چلی جائے گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سفر کامیاب رہا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ دو دن بعد رمضان بھی شروع ہو رہا ہے۔اس روحانی ہلچل کے تسلسل کو قائم رکھیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔تقویٰ میں بڑھنے اور دعاؤں کی قبولیت کا یہ خاص موقع انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں ملنے والا ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری روحانی ترقی کے سامان پیدا فرماتا چلا جائے۔ہمیں پاک صاف کر دے، ہمارے اندر کی تبدیلیوں کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہیں ایک خاص ماحول کی وجہ سے مستقل رہنے والی تبدیلیاں بنادے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بھی یاد رکھو کہ سب سے اول اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے۔ساری دعاؤں کا اصل اور جز ویہی دعا ہے۔کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مظہر ہو جاوے تو پھر دوسری دعائیں جو اس کی حاجات ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں۔( دنیاوی ضرورتوں کے لئے اور