خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 393
393 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 بھی سینہ کھولے اور احمدیت کی قبولیت کی توفیق عطا فرمائے۔اس خاتون کے اُردو بولنے سے مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ جوا بھی بیعت میں شامل بھی نہیں ہوئے وہ تو قریب آنے کے لئے اُردو سیکھ رہے ہیں اور وہ جن کے ماں باپ کی یہ زبان ہے وہ اسے بھول رہے ہیں تو یہ بعد میں آنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لٹریچر آپ کی زبان میں پڑھ کر، کہیں پرانوں سے آگے نہ نکل جائیں۔ان وفود میں بعض اخباری نمائندے بھی تھے جنہوں نے اپنے ملکی اخباروں میں جلسہ کی خبریں مع تصویروں کے شائع کرائی ہیں اور اس حوالے سے بھی جو جلسہ ہے وہ تبلیغ کا ذریعہ بن گیا اور جماعت کے تعارف کا ذریعہ بن گیا۔ان اخباری نمائندوں کو میں نے جماعت کا تعارف اور جو ہم انسانیت کے لئے خدمت کر رہے ہیں اس کے بارہ میں تفصیل سے بتایا۔ان کو توجہ دلائی کہ انسانی قدروں کی پہچان ہونی چاہئے۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اخبارات میں کالم لکھتے رہیں گے۔جلسہ کے بعد جرمن احمدی مردوں اور عورتوں سے بھی علیحدہ علیحدہ وفود کی صورت میں ملاقات ہوئی۔اس جلسہ میں شامل ہونے والی وہ خواتین جو قریب تھیں ان میں سے دو بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئیں۔ایک ان میں سے جرمن تھیں اور ایک مصری نژاد تھیں۔مصری خاتون کے میاں بھی مصری تھے۔وہ بڑے عرصے سے یہاں آباد ہیں۔انہوں نے بیعت کی۔جرمن خاتون جنہوں نے بیعت کی وہ تو جذبات سے اس قدر مغلوب تھیں کہ جب میں نے ان سے کچھ سوال کئے ، تاثرات بیان کرنے کو کہا تو جذبات کی وجہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، بار بار رو پڑتی تھیں۔اور یہ کیفیت بناوٹ کی وجہ سے پیدا نہیں ہوسکتی۔بعض نئی احمدی خواتین نے اس بات پر بھی بے چینی کا اظہار کیا کہ ہم بعض دکانوں میں کام کرتی ہیں، پہلے ہی کر رہی تھیں جہاں سورا اور شراب کا کام بھی ہوتا ہے۔ہم کوشش کر رہی ہیں کہ اس کام کو جلد چھوڑ دیں یعنی ان دکانوں کو جلد چھوڑ دیں۔براہ راست تو یہ کام نہیں کرتیں لیکن بے چینی سے اس بات کا اظہار کر رہی تھیں کہ ہم سے اس وجہ سے چندہ نہیں لیا جاتا۔تو میں نے ان کو بتایا کہ اگر تم براہ راست شراب پلانے یا ر کھنے یا سنبھالنے کا کام نہیں کر رہی یا سور کا کام نہیں کر ہی تو پھر تو کوئی پابندی نہیں۔لیکن اگر کسی بھی اس قسم کے کام میں ملوث ہو تو بہر حال چندہ نہیں لیا جائے گا۔یہ عذر تمہارے لئے تو جائز ہے کہ اپنا پیٹ پالنا ہے لیکن جماعت کے لئے نہیں۔پھر جب جرمنی اور یورپ کے مرد احمدیوں کی باری آئی تو ان میں سے بھی بہت سارے ہیں جو جماعت کے بہت قریب ہیں وہ بھی ان میں شامل ہوئے۔مردوں میں سے ایک جرمن اور ایک ہنگری کے آئے ہوئے دوست جلسہ کی کارروائی دیکھ کر جماعت میں شامل ہو گئے۔انہوں نے وہیں اس مجلس میں پھر دستی بیعت بھی کی اور ان کی یہ بیعت جذباتی کیفیت میں تھی۔