خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 372

خطبات مسرور جلد هفتم 372 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 حالتوں کو سنواروں گا بلکہ آنحضرت مے کے ذریعہ ہمیں خدا تعالیٰ کا یہی پیغام ملا ہے اور قرآن کریم میں بھی کہ تم ایک قدم آؤ میں دو قدم بڑھوں گا۔تم چل کر آؤ میں دوڑ کر آؤں گا۔( صحیح مسلم کتاب الذكر والدعاء والتوبة باب فضل الذكر والدعاء والتقریب الی اللہ حدیث 6725) پس یہ قدم بڑھانے اور چل کر خدا تعالیٰ کی طرف جانے کے عمل ہمیں پہلے کرنے ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنی وسیع تر رحمت کی وجہ سے ہمارے اٹھنے والے قدموں کی گفتی کو کئی گنا بڑھا دے گا اور ہمارے چلنے کے فاصلوں کو جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے اور اس کا فضل چاہنے کے لئے طے کئے جارہے ہیں اس طرح کم کر دے گا کہ اس ڈوری اور بعد کا احساس ہی ختم ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہی بات آپ کو قرآن کریم میں بھی فرمائی ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70) یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کی اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔پس یہ ہے خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے پیا را انداز۔ایک تو اس کے اپنے بندوں پر عمومی انعامات اور احسانات ہیں رب ہونے کے ناطے اور رحمن ہونے کے ناطے۔اور ایک وہ سلوک ہے جو خاص بندوں سے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور جب اس سلوک سے حصہ پانے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے فضلوں سے نوازتا چلا جاتا ہے اور اپنے انعامات کی بارش ان پر برساتا چلا جاتا ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جب ہم یہاں اپنے دنیاوی دھندے چھوڑ کر جمع ہوتے ہیں، کاروباروں کو چھوڑ کر جمع ہوتے ہیں، ملازمتوں سے رخصتیں لے کر جمع ہوتے ہیں تو پھر خالص ہو کر اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والے بن جائیں ورنہ ہمارا اس جلسے میں آنا محض دنیاوی اغراض کے لئے ہوگا اور اس بات سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سخت کراہت فرمائی ہے اور نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے اورجیسا کہ میں نے بتایا آپ کا مقصد تو ہمیں معرفت الہی میں ترقی دلوانا تھا۔اپنی جماعت کے افراد کو ان معیاروں کی طرف راہنمائی کرنا اور لے جانا تھا جن کے نمونے آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے ہمارے سامنے قائم فرمائے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم، رحم، لطف اور مہربانیوں کے صفات بیان کرتا ہے اور رحمن ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرما تا ہے کہ ان ليسَ لِإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (انجم:40) اور وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (الكبوت :70) فرما کر اپنے فیض کو سعی اور مجاہدے پر منحصر فرماتا ہے۔نیز اس میں صحابہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ (المائده: 120) کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 507 جدید ایڈیشن مطبوعه ر بوه ) پھر آپ فرماتے ہیں ”اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔نماز میں دعائیں مانگو۔صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِینَا میں شامل ہو جاؤ۔جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی