خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 373

373 خطبه جمعه فرمود 140 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کھاتا، مسہل لیتا ، خون نکلواتا، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے اسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دور کرنے کے واسطے ہر طرح کوشش کرو۔صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدے کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجالاؤ۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه : 507-506 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) آپ فرماتے ہیں : ”توبہ استغفار، وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔۔۔۔پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے“۔پس ہراحمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ منزل مقصود تک پہنچنا ہی ہمار اطمح نظر ہونا چاہئے اور ایک مومن کی منزل مقصود دنیا وی بڑائی اور مقام حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرنا ہے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کرنا ہے اور انہیں ادا بھی کرنا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو ماننے کی توفیق دے کر معرفت الہی حاصل کرنے کے لئے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی۔ان راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی جن پر چل کر آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے خدا تعالیٰ کا قرب پایا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصود بنایا۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ جس کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ہمیں یا ہمارے باپ دادا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی آگے بڑھ کر ان راستوں پر چلنے کی بھی کوشش کریں اور یہی حقیقی شکر گزاری ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مزید وارث بناتی چلی جائے گی۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70 ) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنی محبت کا ایک عجیب اظہار فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ کی حدیث بھی اسی کی وضاحت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف چل کر آنے پر دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ لفظ استعمال فرمایا ہے کہ جَاهَدُوا فِينَا۔یہ الفاظ جو ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلی کوشش بہر حال بندے نے کرنی ہے اور معمولی کوشش نہیں بلکہ بھر پور کوشش۔لفظ جہد کا مطلب ہے کہ نیکی کے حصول کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ مستقل مزاجی سے اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر کوشش کرتے چلے جانا ہے۔مقصد کو حاصل کرنے کے لئے استقلال دکھانا اور برائی کے خلاف اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیزاری کا اظہار کرنا اور عملی قدم اٹھانا۔اب یہ باتیں کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں۔انسان کہے کہ میں نے صحیح راستے پر چلنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں دکھایا۔ہدایت کے راستے کے لئے برائیوں سے بیزاری شرط ہے۔ہر طرح کی کوشش شرط ہے اور مستقل مزاجی شرط ہے۔جب یہ شرطیں پوری ہوں گی تو خدا تعالیٰ جس نے انسان کو برے اور بھلے کی تمیز بھی عطا فرمائی ہے۔اس کی آزادی بھی دی ہے اور شیطان کو بھی انسان کو ورغلانے کے لئے آزاد چھوڑ دیا۔