خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد ہفتم 371 (33) خطبه جمعه فرمود 140 اگست 2009 فرموده مورخه 14 اگست 2009ء بمطابق 14 ظہور 1388 ہجری شمسی بمقام مئی مارکیٹ۔منہائیم (جرمنی) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الحمد للہ آج جماعت احمد یہ جرمنی کا جلسہ سالانہ میرے اس خطبہ کے ساتھ شروع ہورہا ہے۔یہ جلسے بھی ایک خاص مقصد لئے ہوئے ہوتے ہیں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تحریرات اور اشتہارات میں ذکر فرمایا ہے اور وہ باتیں یا مقاصد جن کے لئے آپ نے جلسے کا اہتمام فرمایا ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔خدا تعالیٰ کی معرفت محض اس کے فضل سے بڑھے اور بڑھانے کی توفیق ملے۔تیسرے یہ کہ آپس میں محبت، پیار، اخوت اور بھائی چارہ بڑھے اور چوتھے یہ کہ تبلیغی سرگرمیوں کی طرف توجہ پیدا ہو۔پس آپ میں سے ہر ایک ان مقاصد کو سامنے رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے طفیل جو روحانی ماحول میسر آیا ہے اور اس ماحول کو پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔یہاں کے پروگرام ایسے بنائے جاتے ہیں کہ ماحول پیدا ہو۔پروگراموں میں عبادات کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔فرض نمازوں کے ساتھ تہجد کا بھی انتظام ہے تا کہ وہ جن کے لئے انفرادی طور پر تہجد پڑھنا مشکل ہے، اٹھنا مشکل ہے، اجتماعی تہجد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تین دنوں میں اس میں شامل ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے عین ممکن ہے کہ وہ ان دنوں میں سنجیدگی سے دعائیں کریں تو بہت سوں کو پھر تجد مستقل پڑھنے کی عادت بھی پڑ جائے۔نوافل کی طرف توجہ پیدا ہو۔ذکر الہی کی طرف توجہ پیدا ہو۔کیونکہ ایک احمدی سے اس ماحول میں جو جلسے کا ماحول ہے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان دنوں میں جہاں وہ دینی باتیں سن کر دینی علم بہتر کرنے کی کوشش کرے، اپنی دینی اور روحانی حالت کو سنوارتے ہوئے خدا تعالیٰ کی معرفت میں بڑھنے کی کوشش کرے۔اور خدا تعالیٰ کی معرفت میں بڑھنے کے لئے عبادات اور ذکر الہی بہت اہم ہیں۔جب یہ ایک کوشش سے کی جائے تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے معرفت الہی میں ترقی کا باعث ہوتی ہے۔پس یہ معرفت الہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے آپس میں محبت و پیار کی فضا بھی پیدا کرتی ہے۔اس طرف توجہ دلاتی ہے اور ایک تڑپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے اور انسانیت کو اس سے فیضیاب کرنے کے لئے دعاؤں کی طرف بھی مائل کرتی ہے۔یہ سب کچھ بیشک خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے لیکن اس کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کوشش کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں پہل کرتے ہوئے تمہاری