خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 354
354 خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم میں اپنے ملک میں جہاں تک ہو سکا کوشش کروں گا کہ جماعت کو کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔پھر بہت ساری باتیں میرے سے کرتے رہے آخر پر مجھے کہنے لگے کہ آپ سمجھیں کہ بیٹن میں آپ کا ایک بچہ موجود ہے۔پھر سیرالیون کے ایک جسٹس Abdulai Sheikh Fofanah ہیں انہوں نے لکھا کہ جلسہ بہت شاندار تھا اور میرے لئے ہمیشہ ایک مقدس یادگار کے طور پر رہے گا۔دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھائیوں کی طرح پیار سے رہتے ہیں اکٹھے نمازیں پڑھتے ہیں اور اسلام کی ترقی کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔پھر برکینا فاسو کے گورنر تھے بَامُبَارَا ایلوا۔انہوں نے لکھا کہ خاکسار برکینا فاسو کی نمائندگی میں یہاں آیا ہے اور دلی جذبات جماعت احمدیہ کے سربراہ کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔اس جلسے میں میں نے دیکھا کہ بلاشبہ دنیا کی ہر قوم اور ہر نسل موجود ہے لیکن یک رنگ اور سب ہی انسانیت کے علمبردار نظر آتے ہیں۔آج کا جلسہ کسی بھی قسم کے رنگ ونسل کے فرق سے بالا تر ہو کر ہو رہا ہے۔یہ جماعت احمدیہ کے ماٹو ” محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“ کی واضح عکاسی کرتا ہے اور اسی ماٹو سے ساری دنیا کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔جماعت احمد یہ میرے ملک میں تمام تر عزت و وقار کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔جماعت احمدیہ نے صرف 20 سال میں ہی برکینا فاسو کے دور دراز کے علاقوں کے دل جیت لئے ہیں۔ہم اس بات کو بہت جلد پہچان گئے ہیں کہ یہ جماعت ہی ہے جس میں انسانیت کی خدمت بلا تمیز رنگ و نسل ، مذہب ملت ہے اور صرف روحانی مائدہ ہی نہیں بلکہ جسمانی خدمات بھی پہنچانے میں آپ صف اول میں ہیں۔کہتے ہیں کہ جماعت ہمارے ملک میں تعلیم ، پانی ،بجلی کی فراہمی کا کام سرانجام دے رہی ہے۔صدر مملکت نے فیصلہ کیا کہ جماعت کو اس کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ملک کا اہم اعزاز تمغہ امتیاز دیا جائے جو گزشتہ ستمبر جشن آزادی کی تقریب میں جماعت احمدیہ کو دیا گیا تھا۔پس ہم تو ان سے کسی قسم کا انعام نہیں چاہتے۔خدمت کرتے ہیں تو خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور یہی جذ بہ ہے جو ہر کارکن کا ہے اور ہر احمدی کا ہے۔پھر ابْرَاهِيم حِيَامًا گر با صاحبہ، خاتون ہیں۔یہ نیامی کی میئر ہیں۔یہ کہتی ہیں کہ آپ کے ماٹو محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“ نے مجھے بہت متاثر کیا ہے اور میں نے یہاں اس کا عملی نظارہ دیکھا ہے۔ساری دنیا سے مختلف مذاہب اور رنگ ونسل کے لوگ آئے ہوئے تھے۔آپ میں سے ہر چھوٹے بڑے مرد عورت نے ہمیں محبت ہی دی ہے اور جس طرح ہمارا خیال رکھا گیا ہے یہ دن ہم ہر گز نہیں بھول سکتے۔پھر امریکہ کے ایک احمدی ہیں احمد نورالدین صاحب۔کہتے ہیں کہ پہلی دفعہ یہاں آ کر جو کچھ میں نے دیکھا میرے آنسو بہنے لگے اور میں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے رونے لگا۔یقینا وہ وقت قریب ہے میں محسوس کرتا