خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 353
353 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 پھر جو بین سے آئے ہوئے تھے ڈاکٹر جان الیگزانڈروزیرمملکت برائے سیاسی امور اور مشیر خاص صدر مملکت کے۔یہ جب میں دورے پر گیا ہوں تو مجھے وہاں بارڈر پر ریسیو (Recieve) کرنے آئے تھے اس وقت سے ان کی دوستی کا ہاتھ بڑھا ہوا ہے اور بڑے وفا سے نبھا رہے ہیں حالانکہ عیسائی ہیں۔یہ لکھتے ہیں کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے اور دنیا میں اسلام کا مستقبل صرف احمدیت ہی ہو سکتی ہے اور احمدیت نے ہمیں اسلام کا ایک نیا چہرہ دکھایا ہے جو اس سے قبل ہم نے کسی مسلمان میں نہیں دیکھا اور یہ دراصل محبت، بھائی چارے، خلوص اور انسانیت کی خدمت کا چہرہ ہے۔روحانیت کی اعلیٰ اقدار کا حامل چہرہ ہے۔علم اور روحانیت کا زبردست امتزاج ہے۔محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کا ماٹو ہی ہے جس کی عملی تصویر جماعت احمدیہ ہے جو ایک الہی مذہب کا مقصد ہوتا ہے اور اسی سے آج ساری دنیا کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ 30 ہزار لوگ شامل ہوتے ہیں لیکن ہمارے لئے یہ بات ماننے والی نہیں تھی۔یہاں آ کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سارے انتظامات پر امن اور پرسکون ماحول ہمحبت و خلوص اور ایک دوسرے کے احترام سے پر ہے۔کہتے ہیں یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی اور ہی مخلوق ہو جس کو دنیا کی خود غرضی اور مسائل سے کوئی تعلق نہ ہو۔یہ تو لوگ نہیں فرشتے ہیں جنہوں نے آسمان سے زمین پر آ کے رہنا شروع کر دیا ہے۔انتظامات میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی اس طرح تربیت ہوئی ہے گویا ماؤں کے رحموں سے تربیت پا کر آئے ہیں۔کاش ہمارے ملک بینن میں بھی ہم ایسے ہو جائیں۔ہر ایک نے بڑی عزت اور محبت سے ہمارا خیال رکھا ہے۔ہماری زندگی میں اس کی یاد ہمیشہ رہے گی۔تو یہ تربیت ہے جو یقیناً احمدی بچوں کی مائیں کرتی ہیں اور اس کو جاری بھی رکھنا چاہئے۔یہی چیز ہے جو احمدیت کا طرہ امتیاز ہے۔پھر کہتے ہیں: ایسا بھائی چارے کا ماحول ملا ہے جو بین میں کبھی نہیں ملا۔آج بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو امن بھائی چارہ چاہتے ہیں کاش دوسرے سب مسلمان احمدیت کو سمجھ لیں۔پھر کہتے ہیں کہ عالمی بیعت اور آخری روز کا جو میرا خطاب تھا اس نے تو ہماری دنیا بدل دی۔(حالانکہ ابھی عیسائی ہیں )۔اللہ کرے کہ یہ اسلام ہم سب کا مقدر بن جائے اور ہماری ہدایت کا موجب بن جائے۔عالمی بیعت اور بعد ازاں زار و قطار آنسوؤں سے اپنے دلوں کوصاف کرتے اور دھوتے ہوئے لوگوں کو پایا۔ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ اس وقت کوئی خاص آسمانی نزول ہو رہا تھا۔جس میں ہم لوگ بھی شامل تھے۔پھر کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا ہی انتظار ہے کہ ہم اپنے ملک جائیں اور لوگوں کو بتا سکیں کہ احمدیت ہی ہے جس کے سائے تلے ہم زندگی گزار سکتے ہیں۔ایسی زندگی کہ بلا خوف ہو اور دوسری طرف خدا سے ملانے والی ہو۔پھر کہتے ہیں کہ جب اللہ کے بندے کسی بھی سچائی کو لے کر چلتے ہیں تو مخالفین اس کی راہ میں روک پیدا کرتے ہیں لیکن