خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 336

خطبات مسرور جلد ہفتم 336 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 لئے دعا کرو۔بلکہ ہمارے دین اسلام میں تو ہمسائے کے اس قدر حقوق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے ایک وقت میں یہ گمان کیا کہ کہیں ہمسائے ہماری جائیدادوں کے بھی وارث نہ ٹھہرائے جائیں۔( بخاری کتاب الادب باب الوصاءة بالجار حدیث 6014) پس جن کے دلوں میں کچھ تحفظات ہیں وہ بے فکر رہیں۔ہم تو اس زمین میں جس کا نام حدیقۃ المہدی رکھا گیا ہے ہدایت کے باغ لگانے آئے ہیں۔پیار و محبت اور حقوق العباد کی فصلیں کاشت کرنے آئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی بہت ساری اکثریت ان غیروں کی بھی ہے جو ہمارے سے ہمدردی کا سلوک رکھتے ہیں۔ہمارے لئے ہر طرح کی مدد کے لئے ہر وقت تیار و کمر بستہ ہیں۔گزشتہ سالوں میں جلسہ کے دنوں میں بعض وقتیں پیش آئی تھیں جن میں بہتوں نے ہماری مدد کی اور اس سال بھی جلسے کے انعقاد کے لئے ہمارے حق میں رائے دی ہمیں ان سب کا بھی شکر گزار ہوں۔اور سب احمدیوں کو بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔دوسرے میں اپنے دوستوں اور ہمدردوں اور ان لوگوں کو بھی جن کو ہمارے بارہ میں کچھ تحفظات ہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا اسلام کی تعلیم تو تمام مذہب کے بانیان کو عزت کی نظر سے دیکھنے کی تعلیم ہے اور ہم اپنے ایمان کی وجہ سے سب انبیاء کی عزت کرتے بھی ہیں۔لیکن جب ہمارے نبی ، ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی امیے کے متعلق مغرب میں بیہودہ لٹریچر شائع ہوتا ہے۔ان کو ، قرآن کریم کو، آپ کی ازواج کو صحابہ کو جب تحقیر اور توہین کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر مسلمان اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔اور جو پر مسلمان جماعت احمدیہ میں شامل نہیں اور خلافت کی نعمت سے محروم ہیں ان کے رد عمل راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے پھر ایسے ہوتے ہیں جس سے شدت پسندی کا اظہار ہوتا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا سوال ہے جماعت احمدیہ بھی رد عمل ظاہر کرتی ہے لیکن ہمارا رد عمل اسلام کی خوبصورت تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دنیا پر ظاہر کرنے کا ہوتا ہے۔بہر حال مسلمانوں کے اس غلط رد عمل کی وجہ سے مغرب کے نام نہاد لکھنے والے اور سکالرز لغو کتابیں لکھ کر مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرتے ہیں۔اور جب بھی میں نے یہ بات یہاں کے مختلف طبقوں میں کی ، انہوں نے ہمیشہ مجھ سے اتفاق کیا کہ امن قائم رکھنے اور محبت و پیار بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔پس ہمارے وہ ہمسائے جن کے ذہنوں میں غلط تاثر ہے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہم تو یہاں آئے ہی پیارو محبت کی فصلیں کاشت کرنے ہیں۔پیار اور محبت سے دل جیتنے کے لئے آئے ہیں اور مخالفت میں جو بھی اور جیسا بھی لوگ ہمارے ساتھ سلوک کر رہے ہیں ہماری طرف سے ان کے لئے نیک جذبات کا اظہار ہی ہوتا ہے۔