خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 337
خطبات مسرور جلد ہفتم 337 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 احمدیوں سے میں کہتا ہوں کہ یہ غیروں کو مخاطب کر کے جو میں نے ایک لمبی بات کی ہے، اس لئے کر دی ہے کہ آپ لوگ بھی دل میں یہ احساس رکھیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔علاوہ مہمان ہونے کی ذمہ داری کے جس کا میں ذکر کروں گا ہر احمدی کو چاہئے کہ وہ ڈیوٹی دینے والا بھی ہو۔اور یہ اس کی ایک ذمہ واری بھی ہے۔پس ہر احمدی جو بھی اس جلسے میں شامل ہے ، مرد ہے یا عورت ہے، جوان ہے یا بوڑھا ہے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھے کہ ہر سال کسی نہ کسی ہمسائے کو کسی شکایت کا موقع مل جاتا ہے۔گوا کثریت اس حقیقت کو جانتی ہے اور مجھتی ہے کہ اتنے بڑے مجمع میں ہر کام میں 100 فیصد پر فیکشن (Perfection) پیدا نہیں ہو سکتی اور وہ کمزوریوں اور کمیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔لیکن ہماری طرف سے ایسی کوشش ہونی چاہئے کہ اس وقت نہ ہمدردوں کو اور نہ ہی جو ہمارے غیر ہمدرد ہیں یا جو کمیوں کو تلاش کرنے کی فکر میں رہتے ہیں ان کو موقع مہیا کریں کہ جلسہ کی وجہ سے یہاں کی آبادی کو کسی بھی قسم کی وقت کا سامنا کرنا پڑے۔بعض لوگ اعتراض کرنے کے لئے عادتا بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے کہ کبھی ایسے بہانے تلاش کرنے والوں کوکوئی موقع نہ ملے۔جلسہ سالانہ کی انتظامیہ نے ٹریفک کے اصول وضوابط بنائے ہیں ان کی پابندی کریں۔بلکہ یہاں ملکی قانون کے مطابق ٹریفک کے قواعد وضوابط جو ہیں ان کی پابندی کرنا ہر ایک پر فرض ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ یہ چھوٹی سڑک ہے تو جہاں چاہے گاڑی کھڑی کر دیں۔بعض یورپ سے آنے والے بھی بے احتیاطی کر جاتے ہیں اور بعض انگلستان کے رہنے والے بھی بے احتیاطی کرتے ہیں۔اگر ہر کوئی سڑک پر گاڑی کھڑی کرنے لگ جائے تو سڑکیں تو بالکل بلاک (Block) ہو جائیں گی۔پھر ہمارے دونوں طرف جو آبادیاں ہیں۔ایک طرف آلٹن کا شہر ہے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا گاؤں یا قصبہ ہے ان کی سڑکوں پر گھروں کے سامنے کبھی گاڑیاں کھڑی نہ کریں۔دو سال پہلے بھی گھر والوں کو یہ شکایت ہوئی تھی۔خاص طور پر بارش کے دنوں میں جب ٹریفک زیادہ ہو گئی تھی۔اب تو ٹریفک کا انتظام کیا گیا ہے۔لیکن آج بھی ہو سکتا ہے کہ بارش کی وجہ سے تھوڑی سی اندر آنے میں دقت پیدا ہو تو ایسی صورت میں گاڑیاں باہر بالکل کھڑی نہیں کرنی۔جو دو سال پہلے شکایت پیدا ہوئی تھی اس کی وجہ سے بہت زیادہ ہمسائے ایسی صورت میں ہمارے متعلق باتیں کرنے لگ گئے تھے۔گو اس بارے میں انتظامیہ نے اب کافی توجہ دی ہے اور اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ایسا واقعہ نہ ہو لیکن کسی بھی احمدی کو ایسی حرکت ہی نہیں کرنی چاہئے کہ انتظامیہ کو انہیں توجہ دلانے کی ضرورت پڑے۔ہر احمدی کو خود اس ذمہ واری کا احساس ہونا چاہئے ، چاہے وہ کہیں سے بھی آیا ہوا ہے۔خود احتیاط کریں اور جیسا کہ میں نے کہا اسلام نے تو ہمسائے کے بہت حقوق رکھے ہیں اور حدیقہ المہدی کے دائیں بائیں رہنے والے تمام لوگ جماعت کے ہر فرد کے جو یہاں جلسے میں شامل ہونے آتا ہے اس کے ہمسائے ہیں۔جہاں تک پارکنگ کا سوال ہے۔گاڑی لانے والوں کے لئے بارش کی صورت میں بھی انتظامیہ نے پارکنگ کا انتظام