خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 331
خطبات مسرور جلد ہفتم 331 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 آپ نے ایک موقع پر فرمایا اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی نوبت پہنچ جائے ( گالی گلوچ بھی تمہیں کرے) تو تم کو چاہئے کہ چپ کر رہو۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعودا ز شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 161-160) ایک دفعہ فرمایا کہ لنگر خانہ کے مہتم کو تاکید کر دی جاوے کہ وہ ہر ایک کی احتیاج کو مدنظر رکھے۔مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتا ہو، اس لئے کوئی دوسرا شخص یاد دلا دیا کرے۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دست کش نہ ہونا چاہئے۔کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔بعض وقت کسی کو بیت الخلاء کا ہی پتہ نہیں ہوتا۔تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے“۔فرمایا ”میں تو اکثر بیمار رہتا ہوں اس لئے معذور ہوں۔مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 170 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ( الحکم جلد 8 نمبر 40 مورخہ 24 نومبر 1904 ء صفحہ 2-1) پس یہ چھوٹی چھوٹی ضروریات جو ہیں ان کا بھی آپ خیال فرمایا کرتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے سیرت المہدی میں ایک روایت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کے حوالے سے لکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیت الفکر میں مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرے کی کھڑکی پر لالہ شرمیت یا شاید ملا وامل نے دستک دی۔میں اٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔(سیرت حضرت مسیح موعود۔جلد اول صفحہ 160 - مؤلفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چار برس کا عرصہ گزرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔جون کا مہینہ تھا ، اور اندر مکان نی نیا بنا تھا۔میں دو پہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا حضرت صاحب ٹہل رہے تھے میں ایک دفعہ جا گا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔آپ نے بڑی محبت سے پوچھا آپ کیوں اٹھے ہیں۔میں نے عرض کیا آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سورہوں۔مسکرا کر فرمایا میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا کہ لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔) سیرت حضرت مسیح موعود - مؤلفہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب صفحہ 40۔ناشر ابوالفضل محمود قادیان) مولوی حسن علی صاحب مرحوم نے اپنے واقعہ کا خود اپنے قلم سے ذکر کیا جو ان کی کتاب تائید حق میں چھپا ہے۔لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے