خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد ہفتم 330 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔مخلصین احباب کے لئے تو اور بھی آپ کی روح میں جوش شفقت ہوتا ہے۔اس امر کے اظہار کے لئے ہم ذیل کا ایک واقعہ درج کرتے ہیں: میاں ہدایت اللہ صاحب احمدی شاعر لاہور پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں اپنی اس پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رخصت چاہی جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ جا کر کیا کریں گے۔یہاں ہی رہے ، اکٹھے چلیں گے۔آپ کا یہاں رہنا باعث برکت ہے۔اگر کوئی تکلیف ہو تو بتلا دو۔اس کا انتظام کر دیا جاوے گا۔پھر اس کے بعد آپ نے عام طور پر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم ( اہل عملہ کو ) نہ ہو۔( جو کام کرنے والے ہیں ان کو نہ ہو ) اس لئے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ جس شئے کی اس کو ضرورت ہو وہ بلا تکلف کہہ دے۔اگر کوئی جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو وہ گنہ گار ہے ہماری جماعت کا اصول ہی بے تکلفی ہے۔(میاں ہدایت اللہ صاحب جن کا ذکر ہے ان کو خاص طور پر حضرت مسیح موعود نے بعد میں سید سرور شاہ صاحب کے سپرد کیا کہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا کریں۔) ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 78-79 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ کو مہمان کا کس قدر خیال رہتا تھا اس کا اظہار آپ کے ان فقرات سے ہوتا ہے کہ اپنی تکلیف کا احساس نہ کرتے ہوئے مہمان کے جذبات کے خیال سے، آپ ان سے ملاقات کے لئے باہر تشریف لاتے تھے۔ایک دفعہ سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا۔مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 163 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت اقدس نے ایک موقع پر منشی عبد الحق صاحب کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان آرام وہی پاسکتا ہے جو بے تکلف ہو۔پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں۔پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔یہ کہ کر آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 80 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ ”مہمان کا دل شیشے کی طرح ہوتا ہے ذرا سی ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس لئے بہت خیال رکھا کرو۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 292 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )