خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 316
خطبات مسرور جلد هفتم 316 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 پس خلاصہ یہ کہ اگر حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح حضرت ادریس کے رفع کو رفع جسمانی سمجھتے ہو تو پھر حضرت ادریس کے اترنے کا عقیدہ کیوں نہیں رکھتے ؟ ان کے اترنے کا بھی عقیدہ ہونا چاہئے۔پس اگر دلائل سے دیکھا جائے تو کوئی نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کلام اور دلائل اور براہین کا مقابلہ کر سکے۔مسلمانوں پر حیرت ہے کہ ایک طرف تو ختم نبوت کے غلط معنی کرتے ہوئے یہ ماننے کو تیار نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے کوئی نبی آسکتا ہے اور باوجود قرآن کریم کی اس خبر کے کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعة : 4 ) یعنی اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی مبعوث کرے گا جو ابھی ان سے نہیں ملے۔اس کو پڑھتے ہیں پھر بھی مانتے نہیں اور آنحضرت ﷺ کے الفاظ کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُم پر غور نہیں کرتے۔اور پھر ساتھ ہی آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعوی بھی ہے۔یہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ کر کے اور اپنے آپ کو نبی اور رسول کہ کر نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی توہین کی ہے اور ان کے مقام کو گرایا گیا ہے۔حالانکہ یہی آنحضرت ﷺ کی عظمت اور شان ہے کہ آپ کی امت میں سے، آپ سے عشق و محبت کی وجہ سے، خدا تعالیٰ ایک شخص مبعوث فرمائے جس کا مقام نبوت کا مقام ہو اور وہ نبوت کا مقام صرف خدا تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے نہ ہو جیسا کہ سابقہ انبیاء کا تھا۔ان کو یہ درجہ ملتا رہا اور اللہ تعالیٰ کی خاص عطا سے یہ درجہ ملتا رہا اس تعلق کی وجہ سے، جن میں سے بعض نبی صاحب شریعت تھے اور بعض غیر تشریعی نبی تھے جو اپنے سے پہلے نبیوں کی شریعت پر کار بند تھے اور اُسی تعلیم کو انہوں نے جاری رکھا۔بلکہ آنے والے مسیح کا مقام اور رتبہ اور اس کا رفیع الشان ہونا صرف آنحضرت ﷺ کی پیروی کی وجہ سے تھا اور آپ کی اُمت میں سے ہونے کی وجہ سے تھا اور آپ کے ساتھ عشق و محبت کی وجہ سے تھا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تھا کہ آخرین میں مسیح موعود مبعوث ہوگا۔الله پس مسلمانوں کو چاہئے کہ عیسی کو زندہ آسمان پر بیٹھا سمجھنے کی بجائے جو عیسائیوں کا نظریہ ہے آنحضرت مو کی غلامی میں آپ کی اُمت میں سے آنے والے کو ہی مانیں کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے اور آنحضرت ﷺ کی ہیں شان بلند ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے یہ کہا کہ عیسی کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 694 حاشیہ) اصل میں مرزا صاحب کو یہ کہنے میں اسلام کے زندہ ہونے سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ اپنے دعوی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں میں اور عیسائیوں میں بھی رفع کا جو رائج نظریہ ہے اس کے خلاف ہیں اور دوبارہ اترنے کے قائل نہیں بلکہ عیسی کو فوت شدہ سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان لوگوں کو معقل د ہم احمدی تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سب سے ارفع و اعلیٰ مقام آنحضرت ﷺ کاہے اور اللہ تعالی کے سب ے۔