خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 317
317 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 سے پیارے نبی آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں یہ ممکن ہوتا کہ کوئی انسان جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر جا سکتا تو وہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہی تھی اور اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔آنحضرت ﷺ نے معراج کے واقعہ میں جہاں انبیاء کو دیکھا، ان سب انبیاء کو جن کو ہر ایک فوت شدہ تسلیم کرتا ہے انہی میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی دیکھا اور حضرت ادریس کو بھی دیکھا۔اور حضرت عیسی کو جہاں دوسرے آسمان پر دیکھا وہاں وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا کے مطابق ان سے دو درجے او پر ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا۔اور یہی حدیثوں سے ملتا ہے۔اور آپ خود جو تھے وہ سِدْرَةُ الْمُنتَهی تک چلے گئے۔کیونکہ آپ کا مقام سب سے بلند تھا۔بلکہ معراج کا واقعہ جو بیان کیا جاتا ہے اس میں جب آنحضرت ﷺ کو چھٹے آسمان سے اوپر لے جایا گیا جہاں حضرت موسی ملے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ رَبِّ لَمْ أَظُنَّ ان يُرْفَعَ عَلَيَّ اَحَدٌ۔اس کا ترجمہ یہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہے کہ اے میرے خداوند مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی نبی مجھ سے بھی اوپر اٹھایا جائے گا اور اپنے رفع میں مجھے سے آگے بڑھ جائے گا“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اب دیکھو کہ رفع کا لفظ محض تحقیق درجات کے لئے استعمال کیا گیا ہے“۔یعنی درجات کو ثابت کرنے کے لئے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 276) پس یہاں آپ سورۃ بقرہ کی آیت 254 جو ہے اس کا ذکر فرما رہے ہیں جس میں ذکر ہے کہ وَرَفَعَ بَعْضَهُمُ دَرَجت (البقرة:254) یعنی بعض کو بعض دوسروں پر درجات میں بلند کیا ، رفع دیا گیا۔فرمایا کہ آیت (اور ) احادیث نبویہ کی رو سے یہ معنی کھلے کہ ہر یک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے۔(ازالہ اوھام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 276) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت اللہ کے مقام اور سب سے افضل ہونے کے بارہ میں جو قرآن کریم میں فرمایا کہ آپ خاتم النبین ہیں۔اس کی غلط تشریح کر کے دوسرے مسلمان جہاں آپ ﷺ کے مقام کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں وہاں دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ختم نبوت کا مقام نہیں سمجھتے (نعوذ باللہ ) انہوں نے اس مقام کو اونچا کرنے کے لئے اس کی کیا خوبصورت تشریح فرمائی ہے۔اور یہی تشریح اور تفسیر جو ہے وہ ہر احمدی کے ایمان کا حصہ ہے اور اس سے آنحضرت علیہ کی بلند اور ارفع شان کا ایک شان کے ساتھ اظہار بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” پس اس بات کو خوب غور سے یا درکھو کہ جب آنحضرت