خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد ہفتم 311 (28) خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2009 ء بمطابق 10 روفا1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے حضرت عیسی کے حوالے سے لفظ رفع اور اس کے معانی کا ذکر کیا تھا اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ان آیات کی تفسیر فرمائی ہے جن میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلق میں رَافِعُكَ إِلَيَّ يَابَلُ رَفَعَهُ اللهُ اِلَيْهِ کا ذکر آتا ہے اس کا خدا تعالیٰ کی قدوسیت کو قائم رکھتے ہوئے حقیقی مطلب کیا ہے؟ اس مضمون کو آگے چلاتے ہوئے میں آج یہ بیان کروں گا کہ کیا حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ بھی قرآن کریم میں کسی نبی کے بارہ میں اس قسم کے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کا ذکر ملتا ہے۔جس سے اس نبی کے بارہ میں بھی مع جسد عصری آسمان پر جانے کے واقعہ کو منطبق کیا جاسکتا ہو۔اس سلسلہ میں قرآن کریم کی ایک آیت ہے جو حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔یہ سورۃ مریم کی آیات 57-58 ہیں کہ وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ إِدْرِيسَ۔إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا۔وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم :57-58) اور اس کتاب میں ادریس کا ذکر بھی کر۔یقینا وہ بہت سچا (اور ) نبی تھا اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا تھا۔اب دیکھیں ان آیات میں حضرت ادریس کو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ مقام دیا گیا ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں تو لکھا ہے کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کہ خدا تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔لیکن حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا کہ ہم نے اسے ایک بلند مقام پر اٹھا لیا۔پس مسلمانوں کو تو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور اب جبکہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور امام الزمان نے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر یہ تمام معاملہ جو ہے، آسمان پر جانے کا وہ روز روشن کی طرح کھول دیا ہے کہ تمام انبیاء کا رفع ہوتا ہے اور روحانی ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی رفع ہوا اور وہ روحانی رفع تھا۔اور یہ جو قرآن کریم میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع کا دو آیات میں ذکر کیا گیا ہے یہ خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا اور اس سیاق و سباق کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام لگایا تھا کہ جو صلیب پر چڑھتا ہے وہ لعنتی موت مرتا ہے۔نعوذ باللہ۔اس الزام سے حضرت عیسی علیہ