خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 312

312 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم الصلوۃ والسلام کو بری کرنے کے لئے قرآن کریم میں یہ فرمایا کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ اللہ تعالیٰ نے قدرتی موت دی اور اس کی طرف رفع ہوا۔عیسائیوں کے پاس تو اس کی کوئی دلیل نہیں تھی اور ویسے بھی عیسائیت میں بعد میں بہت کچھ متن میں تحریف ہوئی اور ردوبدل ہوئی اور تثلیث کا نظریہ پیش کیا گیا اور انہوں نے اس چیز کے زیر اثر حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لعنتی موت مرنے کو صلیب پر مرنے کو، کفارہ کا نام دے دیا اور پھر یہ نظریہ قائم کیا کہ پھر آپ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے اور مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ بیٹھ کر آسمان پر خدائی امور سرانجام دے رہے ہیں اور آخری زمانہ میں دنیا میں عدالت لگانے کے لئے آئیں گیاور جو بھی اس وقت تین خداؤں پر یقین نہیں رکھے گا وہ پکڑا جائے گا۔بہر حال یہ آج کل کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام آسمان پر خدائی امور کو انجام دینے کے لئے بیٹھے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ مسلمانوں میں بھی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا رفع جسمانی سمجھ کر آخری زمانہ میں ان کے اترنے اور خونی مہدی کے ساتھ مل کر دنیا کو مسلمان کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور یہ نظریہ قائم ہے۔اس ضمن میں میں بتا دوں کہ گزشتہ خطبہ میں میں نے ایران کے صدر کا ذکر کیا تھا کہ ان کا بھی یہ نظریہ ہے۔وہ ایک اردو اخبار کی خبر تھی جس سے یہ غلط تاثر ملا تھا۔گو کہ انہوں نے کہا یہی تھا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اپنی زندگی میں یہ تعلیم نہیں دیتے رہے لیکن میں نے انگریزی خبر کا جو اصل حوالہ نکالا ہے جس کا اخبار والوں نے اردو میں ترجمہ کیا تھا اس میں آگے جا کے پھر یہی لکھا ہے کہ جب وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور مہدی کے ساتھ مل کر کام کریں گے تو پھر اصلاح ہوگی۔بہر حال مسلمانوں کا جو بھی نظریہ ہے وہ انہوں نے پیش کیا ہے۔اور مسلمان جو ہیں ان میں سے اکثریت یہی نظریہ رکھتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام آخری زمانہ میں آئیں گے اور خونی مہدی کے ساتھ مل کر دنیا کو مسلمان بنا ئیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوگا اس کو قتل کیا جائے گا۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اس زمانہ کے امام اور مسیح الزمان کو مان کر اس ظالمانہ خونی انقلاب کا حصہ بننے سے بچے ہوئے ہیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات پیش کروں گا۔لیکن اس سے پہلے حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت عیسی کے متعلق بائبل کیا کہتی ہے وہ بھی پیش کر دوں تا کہ اس حوالے سے بھی ادریس اور عیسی کا موزانہ ہو جائے۔بائبل حضرت عیسی کے بارہ میں تو کہتی ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔لیکن حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں بھی پیدائش باب 5 آیت 24 میں لکھا ہے کہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائب ہو گیا۔کیونکہ خدا نے اسے اٹھا لیا۔یہ بائبل کے الفاظ کا اردو تر جمہ ہے اور انگریزی بائبل میں بھی اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظ ہیں کہ ”For God took him“۔پس اگر بائبل میں مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بارہ میں لوقا باب 24 آیت 51 میں لکھا ہے۔تو ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں بھی جنہیں بائیل حنوک کہتی ہے ، اوپر اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔اگر اوپر اٹھایا جانا خدا